اب صرف گائے سے ہی خطرہ نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر استعمال کریں چمڑے کا بیگ، اس پر بھی گئوركشكوں کی نظر، پٹائی سے بال بال بچا نوجوان
04:32PM Wed 24 Aug, 2016
ممبئی :گئو رکشکوں کی دادا گیری کا سائڈ افیکٹ دکھنے لگا ہے۔ ابھی تک تو صرف گوشت کی تلاشی ہوتی تھی، گائے لانے اور لے جانے پر خطرہ منڈلا رہا تھا۔ لیکن ایک نیا معاملہ سامنے آیا ہے۔چمڑے کا ایک بیگ لے کر آٹو سے جا رہے 24 سال کے ایک شخص کو اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ، جب آٹو کے ڈرائیور کو شک ہوا کہ اس شخص کا بیگ گائے کے چمڑے سے بنا ہوا ہے۔ یہ واقعہ جمعہ کو اندھیری مضافات میں پیش آیا ۔ ورون کشیپ نامی یہ شخص آٹو رکشہ سے اپنے دفتر جا رہا تھا ، تبھی اس ڈرائیور کو شک ہوا کہ اس کا تھلا گائے کے چمڑے سے بنا ہے۔
ایک نجی کمپنی میں کریٹیو ڈائریکٹر کے عہدہ پر کام کرنے والے کشیپ نے اپنے فیس بک پوسٹ پر بتایا کہ میں آٹو سے کام پر جا رہا تھا، میرے لمبے بالوں اور ناک میں سوراخ دیکھ کر آٹو والے کو شروع سے ہی مجھ پر شک ہوا اور وہ مجھ سے پوچھ گچھ کرنے لگا، پھر اس نے ٹریفک سگنل پر آٹو روکا اور میرے چمڑے کے تھیلے کو دیکھنے لگا۔
آسام کے رہنے والے کشیپ نے بتایا کہ پھر ڈرائیور نے ان کا بیگ چھوا اور کہا کہ یہ گائے کے چمڑے سے بنا ہے۔ کشیپ نے اس سے انکار کیا اور بتایا کہ یہ بیگ اونٹ کے چمڑے بنا ہوا ہے اور انہوں نے اسے پشکر سے خریدا ہے۔ لیکن جواب سے غیر مطمئن ڈرائیور نے دفتر جانے کے راستے میں پڑنے والے ایک مندر پر گاڑی روک دی اور باہر نکل کر تین دیگر لوگوں کو بلا لیا۔
ورون کو مراٹھی نہیں آتی ہے ، اس لیے وہ ان کی بات سمجھ نہیں پایا۔ ان لوگوں نے ورون کو آٹو سے اترنے کے لئے کہا اور ورون کا بیگ چھو کر دیکھنے لگے۔ انہوں نے ورون کا پورا نام بھی پوچھا اور پھر اسے جانے کو کہہ دیا۔ وہاں سے نکلتے وقت جب ورون آٹو کا نمبر نوٹ کرنے لگا تو اس نے کہا ‘آج تو بچ گئے ، آگے نہیں۔