بہار میں ملک کے موجودہ حالات پر اجتماع؛ مولانا اعجاز قاسمی کا خطاب

03:00PM Fri 23 Oct, 2015

بھٹکلیس نیوز/23 اکتوبر،2015 پٹنہ(پریس ریلیز) ملک کے موجودہ حالات اور علماء کی ذمہ داریوں کے اہم موضوع پرریاست بہار کی ممتاز درس گاہ جامعہ مدنیہ سبل پور میں طلبہ، علماء، دانشور، سماجی رہ نما اور سیاست دانوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے کہا کہ ۱۸۵۷ء کے بعد کے ہنگامی اور قیامت خیز پر آشوب حالات میں بھی اس ملک کے بوریہ نشیں علماء نے ہی قوم و ملت کی ہچکولے کھاتی کشتی کو پار لگایا تھا اور ۱۹۴۷ء کے معرکۂ کارزار میں بھی برطانوی سامراج کے خلاف علماء، صلحا اور مدارس کے تربیت یافتہ افراد ہی سینہ سپر تھے۔اس ملک کی آزادی کے راہ میں انھوں نے تختۂ دار پر اپنے سروں کا نذرانہ پیش کیا ہے،مؤرخین نے لکھا ہے کہ دہلی کے چاندنی چوک سے لے کر جامع مسجد تک کوئی درخت ایسا نہیں تھا، جس پر علماء کی بے گور و کفن لاشیں نہ لٹکی ہوئی ہوں۔ انھوں نے جنگ آزادی میں علماء کے رول پر تاریخی حوالوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ علماء نے ہر دور میں تدریسی ، تربیتی اور وعظ و ارشاد کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ اس ملک کی تحریک آزادی، جمہوری دستور سازی اور اس کے سیکولر کردار کے تحفظ میں بھی کلیدی رول ادا کیا ہے۔علماء نے ہمیشہ حکمت و مصلحت کے تقاضوں کو رو بہ عمل لاتے ہوئے، ناسازگارمخالف حالات کا رخ موڑنے میں تن من دھن کی بازی لگائی ہے۔ وہ آج بھی صرف مدارس اور خانقاہوں کی چہار دیواریوں میں محصور نہیں ہیں، بلکہ ملک کے موجودہ سنگین حالات کے مد نظر ملک و ملت، دین و دستور اور جمہوریت و سیکولرازم کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ مولانا قاسمی نے دین و دستور کو لاحق خطرات اور فرقہ پرست عناصر کی مذبوحی اور غیر جمہوری حرکتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی مٹی میں جمہوریت اور سیکولرازم کا خون گردش کر رہا ہے، اس کے اس سیکولر کردار کو مجروح کرنے والوں کو ہندستان کے امن پسند اور سیکولر مزاج عوام منہ توڑ جواب دیں گے اور وہ اخیر میں مجبور ہوکر، اپنی حرکتوں سے گریز کرنے اوراپنے قول و عمل کا محاسبہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ باطل ہر دور میں شکست کھاتا رہا ہے اور حق ہر دور میں ناسازگار حالات کے باوجود سرخ رو اور کامیاب و کامران ہوکر لوٹا ہے وہ اس دور میں بھی منہ کی کھانے پر مجبور ہوگا۔ مولانا موصوف نے پریس کے نمائندوں کی موجودگی میں فاشسٹ عناصر اور فرقہ پرست طاقتوں کے غیر جمہوری اقدامات کی علانیہ مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی بقا اور ترقی،رواداری، بقائے باہم، قومی یک جہتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور کثرت میں وحدت کے فلسفہ میں پوشیدہ ہے اور یہی عالمی پیمانے پر اس ملک کی شناخت رہا ہے، اس لیے جو سیاسی طاقتیں اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ملک کی جمہوری اور سیکولر شناخت کو مجروح کرنے کے لیے آمادۂ پیکار ہیں، انھیں اپنے عمل سے باز آنا چاہیے اور اس ملک کی لسانی، تہذیبی اور مذہبی تکثیریت کے ستونوں کو کمزور کرنے کے عمل سے توبہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ گھر واپسی، لوجہاد، تبدیلی مذہب، مساجد اور عبادت گاہوں پر منظم حملے اور گؤ کشی کے نام پر فرقہ وارانہ فضا کو مکدر کرنے کی جدو جہد نہ صرف اس ملک کے سیکولر کردار پر حملہ ہے، بلکہ عالمی پیمانے پر ہماری شبیہ داغ دار ہورہی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسلامی اسکالرنعرۂ تکبیر کے مدیر اعلیٰ اور آل انڈیا مرکزی ملی فاؤنڈیشن کے صدر مفتی افروز عالم قاسمی نے بھی سامعین سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ سنگین حالات میں علماء کو آگے بڑھ کر حالات کا دھارا موڑنے کی اپیل کی اور کہا کہ اس بار کے اسمبلی انتخاب میں عوام ان کی قیادت میں باطل طاقتوں کے خلاف صف آرائی کرنے کے موڈمیں ہے، اس لیے انھیں حکمت و مصلحت کے ساتھ ان کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھانا چاہیے۔علماء کا یہ وفد بنگلور کے حاجی نذیر احمد ،دہلی کے عتیق ساجد، حاجی محمد زکی اور حاجی اکرام انصاری کے مشورے سے بہار میں فرقہ پرست طاقتوں کے سیلاب کو روکنے اور سیکولر فورسز کے ہاتھوں کو مضبوط کرنے کے لیے بہار کے دورہ پر ہے۔اس اجلاس کی صدارت جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ کے بانی اور مدرسہ شمس الہدی کے سابق پرنسپل مولانا محمد قاسم نے کی اور نظامت کے فرائض جامعہ کے استاد مولانا مفتی عبد الحد قاسمی نے انجام دیے۔ اس موقع پرڈاکٹر ابرار اجراوی،قاری اسعد ارریہ، طلبہ اور اساتذہ کے علاوہ شہر کے ممتاز سماجی او ر سیاسی رہ نما بھی موجود تھے۔