مولانا انظر شاہ ودیگر ملزمان کو بری کئے جانے والی عرضداشت پر سماعت مکمل

03:34PM Mon 3 Oct, 2016

ممبئی۔ ممنوعہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزامات کے تحت گرفتار مشہور عالم دین مولانا انظر شاہ قاسمی و دیگر ملزمین کو مقدمہ سے بری کئے جانے والی عرضداشت پر آج دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے اسپیشل این آئی اے جج شری رتیش سنگھ کی عدالت میں فریقین کی بحث مکمل ہوئی جس کے بعد جج نے ڈسچارج عرضداشت پر فیصلہ صادر کرنے کے لئے27 اکتوبر کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے سماعت ملتوی کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیتہ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) سے موصول ہوئی۔ جمعیت علماء مہاراشٹر کی جانب سے مقدمہ کی پیروی کرتے ہوئے دہلی کے مشہور وکیل ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے عدالت کو بتایا کہ این آئی اے نے ان لوگوں کو القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے جبکہ اس تنظیم سے ان کا کوئی تعلق نہیں نیز ملزم انظر شاہ کے قبضہ سے تحقیقاتی دستوں کو کچھ حاصل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی انہوں نے اس معاملے میں کوئی اقبالیہ بیان دیا ہے۔ ایڈوکیٹ ایم ایس خا ن نے عدالت کو مزید بتایا کہ جس سرکاری گواہ نے انظر شاہ کے خلاف بیان درج کرایا تھا وہ اپنے سابقہ بیان سے منحرف ہوچکا ہے اور اس معاملے کے دیگر ملزم محمد آصف نے بھی انظر شاہ کے تعلق سے کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے عدالت کو ملزم محمد آصف کے تعلق سے بتایا کہ تحقیقاتی دستوں نے عدالت میں ایسا کوئی بھی ثبوت نہیں پیش کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ ملزم پاکستان ٹریننگ حاصل کرنے کے لئے گیا تھا اور وہاں سے واپس آنے کے بعد اس نے دیگر ملزمین مین پیسے بھی تقسیم کئے تھے۔ واضح رہے کہ اسی سال کی6 جنوری کی شب نو بجے مولانا انظر کو دہلی پولس نے ممنوعہ تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور تحقیقاتی دستہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم کو ممنوعہ تنظیم القاعدہ کے لئے کام کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔