کرناٹک میں کورونا ڈیتھ آڈٹ رپورٹ آئی سامنے ، جانئے کس بنیاد پر کیا گیا یہ آڈٹ
12:01PM Tue 12 May, 2020
کرناٹک میں کورونا کی وجہ سے اب تک تیس اموات درج کی جا چکی ہیں ۔ اموات کے معاملے میں کرناٹک ریاستوں کی فہرست میں گیارہویں نمبر پر ہے ۔ بات اگر جنوبی ہند کی کی جائے تویہاں پر کرناٹک ، تلنگانہ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے ۔ تلنگانہ میں بھی تیس اموات درج کی گئی ہیں ۔ تمل ناڈ اور آندھرا پردیش چوالیس چوالیس اموات کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں ۔ جبکہ کیرالہ میں سب سے کم چارا موات ہوئی ہیں ۔ کیرالہ میں صرف چاراموات نے کرناٹک حکومت کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ پڑوسی ریاست میں چار کے مقابلہ کرناٹک میں تیس اموات کیسے درج ہوئی ۔
تیس اموات کا جائزہ لینے کیلئے کرناٹک حکومت نے ڈیتھ آڈٹ کیلئے ایک ٹاسک فورس پینل تشکیل دیا ہے ، جس کی قیادت راجیو گاندھی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسس کے وائس چانسلر پروفیسر ایس سچا نند کر رہے ہیں ۔ دس اسپیشلسٹ ڈاکٹرس کی ٹیم نے تیس اموات میں سے سترہ اموات کا آڈٹ کرکے ایک رپورٹ تیار کی ہے ۔ اس ٹیم نے مریضوں کے علامات ، اسپتال میں ایڈمیشن کے وقت مریضوں کی کنڈیشن ، طریقہ علاج ، نیچر آف ڈیتھ اور دوران بیماری اس کی صحت پر ریسرچ کی ہے ۔
پروفیسر ایس سچانند کے مطابق مریضوں کو اسپتال میں تاخیر سے لانا ، عمر اور دو سے زیادہ بیماریوں سے مریضوں کا متاثر ہونا زیادہ تر اموات کی اہم وجوہات ہیں ۔ ریسرچ کے مطابق متوفیوں میں زیادہ تر کی عمریں ساٹھ سے زائد تھیں اور وہ پہلے سے کئی ایک بیماریوں ، ذیا بطیس ، ہائی بی پی ، لنگ ڈیسیس ، ہارٹ ڈیسیس سے جوجھ رہے تھے ۔ پروفیسر کے مطابق ہر متوفی کی علامات پر انفرادی طور پر ریسرچ کی گئی کہ کس طرح میڈیکل پروٹوکول فالو کیا گیا ۔ دوران علاج کوئی غیر معمولی بات ہوئی یا پھر علاج کے دوران کہیں کوئی انحراف تو نہیں کیا گیا ۔
پروفیسر سچانند کے مطابق ڈیتھ آڈٹ کرنے کا مقصد وائرس کے اثرات کا علاقائی سطح پر جائزہ لینا تھا ۔ مثال کے طور پر عوام فکر مند ہیں کہ کرناٹک میں کیرالہ کے مقابلہ اموات کی شرح زیادہ ہے اور ڈسچارج ہونے والوں کی شرح کم ہے ۔ پڑوسی ریاست کیرالہ میں کورونا سے صرف چاراموات ہوئی ہیں ۔ کیرالہ میں مریضوں کی تعداد بھی پانچ سو کے آس پاس ہے ، جبکہ کرناٹک میں مریضوں کی تعداد آٹھ سو کے سے آس پاس ہے اور تیس اموات ہوئی ہیں ۔