ہبلی بم دھماکہ معاملہ میں ۱۷؍ مسلم نوجوان مقدمہ سے باعزت بری

04:03PM Fri 1 May, 2015

بھٹکلیس نیوز/یکم مئی،15 ہبلی(ایجنسی)سات سال قبل 17مسلم نوجوان جن میں اکثر میڈیکل کے اور انجینئرنگ طلباء تھے کو مبینہ طورپردہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل رہے کالعدم تنظیم ’’سیمی کے سلیپر سیل کے الزام میں کرناٹک پولیس کی جانب سے میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ گرفتار تمام17نوجوانوں اعلی تعلیم یافتہ ہیں ان میں سے تین ڈاکٹر ہیں جبکہ ایک ایم بی بی ایس کے آخری سال کا طالبِ علم اور دو انجینئرس ہیں ۔ہبلی (کرناٹک) کی ایک عدالت نے ان تمام 17مسلم نوجوانوں کو ثبوتوں کی عدم موجودگی میں بری کردیا‘ جنھیں کرناٹک کی سی آئی ڈی نے ریاست کے مُختلف حصوں سے2008میں گرفتار کیا تھا۔پولیس نے اس معاملہ میں دائر چار شیٹ میں ان تمام 17کو سیمی کے سلیپر سیل بتاتے ہوئے انھیں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام لگایا تھا۔ اور پولیس نے بتایا تھا کہ ان نوجوانوں کے پاس بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد ‘ڈیٹو نیٹری تھا۔اور پولیس کی جانب سے 278گواہوں کو بھی پیش کیا تھا ۔لیکن ٹرائیل کے دوران سرکاری وکیل ان الزامات کو عدالت میں ثابت نہیں کرپائے ۔ایسے میں ہبلی (کرناٹک) کی ایک عدالت نے 17نوجوانوں کو بالآخر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔بری کئے گئے نوجوانوں کے نام اس طرح بتائے گئے ہیں محمد آصف‘ ریاض الدین نصیر‘ اسد اُللہ ابو بکرقحافظ حسین ‘شکیل احمد مالی‘اللہ بخا یدواد‘مرزا احمد بیگ‘ ثاب شبلی‘یحیی کما کوٹی‘صفدر حسین ناگوری‘سید صادق سمیر‘قمر الدین ‘محمد یسین ‘محمد انصار‘منظور زمان‘پی اے شادولی‘اور اکبر علی ملا جبکہ سمیر گزشتہ چار سال سے باہری ضمانت سے تھا ۔ان نوجوانوں کے والدین کا کہنا ہے کہ آخر سچ سچ ثابت ہوکر رہا۔ایڈیشنل فرسٹ ضلعی و سیشن جج گوپال کرشنا کولی نے معاملہ کی تحقیقات کرنے والے کرائم تحقیقات کے سیکشن کے خلاف سخت تبصرہ بھی کیا ۔واضح رہے کہ عدالت کے اس فیصلے کے بعد صرف دو ملزم ہی رہا ہوپائیں گے۔ ایک ملزم سید صادق گزشتہ تین سال سے ضمانت پر باہر ہے۔ جبکہ ماباقی 14کی رہائی گجرات اور مدھیہ پردیش میں کیس زیرِالتوا ہونے کی وجہ سے نہیں ہو پائے گی۔ ع،ح،خ