عالمی رابطہ ادب اسلامی کے سیمنار کی افتتاحی نشست
01:02PM Mon 5 Feb, 2018
بھٹکلیس نیوز / 05 فروری، 18
بھٹکل / (رضوان گنگاولی) عالمی رابطہ ادب اسلامی کے سیمنار کی افتتاحی نشست کل بعد نماز مغرب جامعہ اسلامیہ کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی، جس میں ملک و بیرون ملک سے مندوبین کی کثیر تعداد نے شرکت کی. حافظ عبیدالرحمن کی تلاوت سے اس نشست کا آغاز کیا گیا جس کے بعد حافظ محمد زفیف شنگیری نے نعت پاک پیش کی.
ناظم جامعہ جناب شفیع صاحب شہ بندری کے استقبالیہ کلمات کے بعد مہتمم جامعہ مولانا مقبول صاحب کوبٹے ندوی نے جامعہ کی تأسيس اور اس کے مقاصد پر مختصر روشنی ڈالی.
استاد تفسیر جامعہ مولانا الیاس صاحب ندوی نے سیمنار کے مقاصد اور اس کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی. بعد ازاں استاد دارالعلوم ندوة العلماء لکھنو مولانا اقبال صاحب ندوی نے عالمی رابطہ ادب اسلامی کی روداد پیش کی۔
حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی مدظلہ نے کلمات عالیہ سے نوازا. اس کے بعد مقالات کا سلسلہ مہتمم دارالعلوم حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی سے شروع ہوا. مختلف ملکوں سے تشریف فرما حضرت مولانا علی میاں رحمة الله علیہ کے عاشقین اور جانشینوں نے آپ علیہ الرحمة کی دینی و دعوتی خدمات پر مقالات پیش کئے. مولانا ڈاکٹر مزمل صدیقی صاحب ندوی، مولانا محمد عیسی منصوری صاحب ندوی، مولانا عبدالقادر عارفی صاحب، ڈاکٹر سعید فیضی صاحب وغیرھم نے اپنے خیالات و تاثرات کا اظہار فرمایا، اور اختتامی خطاب مولانا سجاد صاحب نعمانی کا رہا، آخر میں مہتمم دارالعلوم ندوة العلماء لکھنؤ کی دعا پر نشست برخواست ہوئی. اس نشست میں نظامت کے فرائض استاذ دارالعلوم ندوة العلماء مولانا نذر الحفیظ صاحب ازھری ندوی نے انجام دیے.
استاد تفسیر جامعہ مولانا الیاس صاحب ندوی نے سیمنار کے مقاصد اور اس کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی. بعد ازاں استاد دارالعلوم ندوة العلماء لکھنو مولانا اقبال صاحب ندوی نے عالمی رابطہ ادب اسلامی کی روداد پیش کی۔
حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی مدظلہ نے کلمات عالیہ سے نوازا. اس کے بعد مقالات کا سلسلہ مہتمم دارالعلوم حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی سے شروع ہوا. مختلف ملکوں سے تشریف فرما حضرت مولانا علی میاں رحمة الله علیہ کے عاشقین اور جانشینوں نے آپ علیہ الرحمة کی دینی و دعوتی خدمات پر مقالات پیش کئے. مولانا ڈاکٹر مزمل صدیقی صاحب ندوی، مولانا محمد عیسی منصوری صاحب ندوی، مولانا عبدالقادر عارفی صاحب، ڈاکٹر سعید فیضی صاحب وغیرھم نے اپنے خیالات و تاثرات کا اظہار فرمایا، اور اختتامی خطاب مولانا سجاد صاحب نعمانی کا رہا، آخر میں مہتمم دارالعلوم ندوة العلماء لکھنؤ کی دعا پر نشست برخواست ہوئی. اس نشست میں نظامت کے فرائض استاذ دارالعلوم ندوة العلماء مولانا نذر الحفیظ صاحب ازھری ندوی نے انجام دیے.