دیپکا کی فلم 'چھپاک' پر کورٹ نے دیا بڑا حکم، ریلیز پر روک پر اٹھی تھی مانگ
12:12PM Thu 9 Jan, 2020
دہلی کی ایک عدالت نے دیپکا پاڈوکون کی فلم ریلیز پرروک سے متعلق عرضی پر جمعرات کو سماعت کے بعد اسے پہلے سے ہی طے شدہ تاریخ 10 جنوری کو ہی ریلیز کرنے کا فیصلہ سنایا۔ لکشمی کی وکیل اپرنا بھٹ نے اپنی عرضی میں کہا، "انہوں نے ایسڈ حملے کی متاثرہ لکشمی اگروال کا کیس سالوں تک لڑا لیکن اس فلم میں مجھے کریڈٹ نہیں دیا گیاہے"۔ اپرنا کا کہنا ہے کہ انہوں نے فلم چھپاک کی اسکرپٹ میں بھی کافی مدد کی تھی۔
بتادیں کہ اپرنا نے اپنی اپیل میں یہ بھی کہا تھا کہ جب تک انہیں کریڈٹ نہیں دیا جاتا تب تک اس فلم کی ریلیز پر روک لگنی چاہئے۔ وہیں اب دیکھنا ہوگا کہ اپرنا کے الزاموں اور کورٹ کے حکم کو لیکر چھپاک کے میکرس کا کیا رد عمل آتاہے۔
چھپاک فلم تیزاب حملے کی متاثرہ لکشمی اگروال کی زندگی پر بنائی گئی ہے۔ لکشمی اگروال کی وکیل اپرنا بھٹ نے عرضی دائر کرکے کہا تھا کہ انہوں نے لکشمی کی طرف سے کئی برسوں تک مقدمے کی پیروی کی ہے لیکن فلم ساز نے انھیں کوئی کریڈٹ نہیں دیا ہے۔
سول جج پنکج شرما نے عرضی پر سماعت کرتے ہوئے فلم ساز، ہدایت کار اور دیگر تمام فریقوں کو حکم دیا کہ فلم کی ریلیز سے پہلے اپرنا بھٹ کو کریڈٹ دیا جائے حالانکہ انہوں نے فلم کی ریلیز کی تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں کیا۔
وہیں قابل غور ہے کہ اس کے پہلے فلم میں ملزموں کے نام اور مذہب کو تبدیل کرنے پر ہنگامہ ہوا ہے۔ اس فلم میں ملزم ندیم کا نام تبدیل کرکے راجیش کردیا گیا تھا۔ جیسے ہی یہ بات منظرعام پرآئی،دیپکا پاڈوکون اورفلم سازوں کے خلاف سوشل میڈیا پرسخت ناراضگی کا اظہارکیا۔ راجیش' اور 'ندیم' کے نام ٹویٹرپر رینڈ کرنے لگے۔جس کے بعد اب یہ اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ فلم سازوں نے اس غلطی کو سدھارلیاہے۔