کون تھے ایم ایم خان، کیوں ہوا تھا اس ایماندار آفیسر کا قتل؟

12:04PM Mon 20 Jun, 2016

نئی دہلی۔ مشرقی دہلی سے بی جے پی کے ایم پی مہیش گری وزیر اعلی اروند کیجریوال کے مکان کے باہر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ این ڈی ایم سی افسر ایم ایم خان کے قتل کے سلسلے میں کیجریوال نے ان پر الزام لگایا تھا اور اسی بات کو لے کر وہ دہلی کے وزیر اعلی کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں۔ ان سب سیاسی اقدامات کے درمیان این ڈی ایم سی کے وکیل ایم ایم خان پر روشنی ڈالنا ضروری ہو جاتا ہے۔ کون تھے ایم ایم خان اور کیسے ہوا تھا ان کا قتل، آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ جامعہ نگر علاقے کے جوہری فارم میں 16 مئی کو ایڈووکیٹ ایم ایم خان کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ معاملے میں پولیس نے 1 شوٹر سمیت 6 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ایم ایم خان کے قتل کی وجہ کناٹ پلیس کے ایک ہوٹل سے این ڈی ایم سی کو ہونے والی 140 کروڑ کی ریکوری تھی، جس کی فائل ایم ایم خان کے پاس تھی۔ جس دن قتل ہوا اس کے دو دن بعد ہی ریکوری معاملے میں خان کو فیصلہ دینا تھا۔ شک تھا کہ کہیں خان ہوٹل کی ریکوری کو لے کر فیصلہ نہ دے دیں۔ پولیس کا کہنا ہے 'دی کناٹ' ہوٹل کے مالک رمیش ککڑ نے 2 لاکھ روپے دے کر یہ قتل کرایا۔ پولیس کے مطابق 'دی کناٹ' کو این ڈی ایم سی نے یوتھ ہاسٹل کا لائسنس دیا تھا۔ لیکن رمیش ککڑ نے اس میں ہوٹل کھول رکھا تھا۔ 2003 میں این ڈی ایم سی نے ہوٹل پر پنالٹی لگا دی تھی۔ لیکن رمیش ککڑ نے کوئی رقم جمع نہیں کرائی اور پھر آہستہ آہستہ یہ رقم تقریباً 140 کروڑ ہو گئی۔ گزشتہ سال معاملہ ہائی کورٹ پہنچا تھا، اس کے بعد ہائی کورٹ نے 6 ماہ کے اندر این ڈی ایم سی سے اس کا حل نکالنے کو کہا تھا۔ این ڈی ایم سی میں قانونی مشیر ایم ایم خان اس معاملے کی تحقیقات کر رہے تھے۔ این ڈی ایم سی کو کناٹ ہوٹل سے 225 کروڑ روپے کی ریکوری کرنی تھی۔ جس میں کورٹ کی جانب سے ایم ایم خان کو لاء آفیسر مقرر کیا گیا تھا۔ ایم ایم خان کے خاندان کے مطابق ہوٹل مالک رمیش ککڑ نے 225 کروڑ کی ریکوری کے معاملے سے نمٹنے کے بدلے 3 سے 4 کروڑ روپے کے رشوت کی پیشکش کی تھی۔ لیکن ایم ایم خان نے رمیش ککڑ کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔ ایم ایم خان نے کئی بار یہ بات اپنے گھر والوں کو بتائی تھی کہ کس طرح ان پر رشوت لینے کے لئے دباؤ بنایا جا رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہوٹل مالک رمیش ککڑ جب اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکا تو اس نے جامعہ کے ہی کچھ لوکل بدمعاشوں کو ایم ایم خان کے قتل کی سپاری دی۔ ان میں شارپ شوٹر بھی شامل تھا۔ اب تک کی تحقیقات میں جو بات نکل کر سامنے آئی ہے اس کے مطابق 3 سے 4 لاکھ تک کی سپاری دی گئی تھی۔ ان میں سے تین بدمعاش جامعہ نگر علاقے کے ہی تھے۔ بدمعاشوں نے ایم ایم خان کا قتل اس وقت کیا تھا جب وہ شام کے وقت اپنی کار پارک کر رہے تھے۔ قتل والے دن کا سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آیا ہے۔ جس میں موٹر سائیکل پر سوار دو بدمعاش ایم ایم خان کی کار کے پیچھے جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ پولیس نے اس معاملے میں اب تک 6 افراد کو گرفتار کیا ہے جس میں سے ایک ہوٹل مالک رمیش ککڑ بھی شامل ہے۔