عالمی رابطہ ادب اسلامی کے سہ روزہ سیمینار  کا اختتام

01:56PM Wed 7 Feb, 2018

بھٹکلیس نیوز /  07 فروری، 18 بھٹکل / (رضوان گنگاولی) ہندوستان کے مختلف شہروں دہلی، لکھنؤ، ممبئی، حیدرآباد، پونہ، اعظم گڑھ، بھوپال، پٹنہ، غازی آباد، مالیگاوں اور ہندوستان کے دیگر شہروں کے علاوہ بیرونی ممالک امریکہ، برطانیا، کینیڈا، بنگلہ دیش، ملیشیا، عراق و ایران سے پونے تین سو مندوبین کی شرکت، مفکر اسلام کی شخصیت و خدمات پر88 گرانقدر مقالات پیش کیے گئے۔ جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے زیر اہتمام مولانا ابوالحسن علی ندوی اسلامک اکیڈمی بھٹکل کے اشتراک سے عالمی رابطہ ادب اسلامی کے سہ روزہ سیمینار میں کل چھ نشستیں ہوئیں، آخری بروز منگل صبح پونے دس بجے عبدالرحمن رکن الدین متعلم عالیہ رابعہ کی خوش الحان تلاوت سے آخری نشست شروع ہوئی، اور شعبۂ ثانویہ کے طالب علم عزیزم محمد صیام نے نعت کے کلمات گنگنائے۔ اس کے بعد مقالات کی فہرست کا آغاز ہوا، جس میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی خدمات کا اعتراف ہورہا تھااور ان کے مشن کو اپنا کر آگے بڑھنے کی فکروں کو بیدار کرنے سے متعلق بات ہورہی تھی، اکابرین ملت کے مقالات اس بات کے گواہ تھے کہ علی میاں کی شخصیت دینی، اصلاحی، علمی اورعملی تھی۔ آپ نے نوجوانوں اور نئی نسل میں بڑھتے فکری الحاد کا سختی سے مقابلہ کیا، آپ کا مزاج نرم تھا لیکن اصلاح کی خاطرسخت پہلو بھی اختیار فرمایا، قلم کی نوک سے، زبان کی چاشنی سے لوگوں کے دلوں کو چیر کر گھر کر گئے، آپ کی امت کی فکر اور کڑھن نے آپ کو علی میاں بنایا، خوش کلامی اور مصالح کی رعایت کے ساتھ وزراء و قائدین سے گفتگو فرماتے، اور تادم آخر اسلام کا علم بلند کرتے رہے اور بھرپور زندگی گزار کر قابل رشک موت نے آپ کو اپنی آغوش میں لیا اور بارگاہ قدوسی میں پہنچایا، طبت حیا و طبت میتا مفکر اسلام کی زندگی کے درخشاں پہلؤوں میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ آپ نے استغنا و خودداری کی اعلیٰ مثال قائم کی،آپ نے قرآنی نظریہ کو اس طرح پیش کیا کہ ’تعلیم کی روح روح کی تعلیم ہے، جلسہ کے آخر میں مولانا عمرین محفوظ رحمانی، مولانا خالد غازیپوری ندوی، مولانا سلمان حسینی ندوی وغیرھم نے اپنے احساسات وخیالات کا اظہار کرتے ہوئے آپ علیہ الرحمۃ کو جامع الکمالات و جامع الصفات شخصیت قرار دیا اور تمنا ظاہر کی کہ کاش کچھ مردان جفاکش آگے آئیں اور اس جذبہ کے ساتھ آگے بڑھیں انہیں خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات اور وسعت افلاک میں تکبیر مسللسل کے جذبہ کے ساتھ بڑھنا ہے بڑھتے رہنا ہے،۔ اخیر میں مولانا الیاس صاحب ندوی نے کچھ تجاویز پیش کیں جو دوران مقالات سامنے آئی تھیں۔ صدارتی خطاب میں حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم نے ان کہی سنی تمام باتوں کو اپنی زندگی میں لانے کی تلقین کی اور اس مشن کو صحیح نہج اور صحیح انداز و اسلوب سے آگے بڑھانے کی فکر پر ابھارا۔ واضح رہے کہ مقالات کی نشستیں جامعہ اسلامیہ جامعہ آباد، مولانا ابوالحسن علی ندوی اسلامک اکیڈمی میں رہی، نیز مندوبین کو منکی ساحل سمندر کی سیر و تفریح کرائی گئی اور رات کی ایک نشست منکی میں بھی رہی.