مسلم انڈیا کی دوبارہ اشاعت سید شہاب الدین کو سچا خراجِ عقیدت:علی گڑھ موومینٹ و علیگ برادری

03:49PM Mon 6 Mar, 2017

سید شہاب الدین کی وجہ سے ملیانہ۔ ہاشم پورہ واقعہ اجاگر ہوا: ڈاکٹر جسیم محمد علی گڑھ(بھٹکلیس نیوز)سیدشہاب الدین محض ایک شخص کا نام نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام تھااور ان کے انتقال سے ملک کی مشترکہ تہذیب و ثقافت اور وراثتی روایات میں ایک ایساخلاء پیدا ہوگیا جس کی تلافی تادیر ممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہارممتاز علیگ اور ماہنامہ دا علی گڑھ موومینٹ کے مدیرِ اعلیٰ ڈاکٹر جسیم محمد نے ماہنامہ دا علی گڑھ موومینٹ اور علیگ برادری کے زیرِ اہتمام مزمل منزل کامپلیکس میں واقع میڈیا سینٹر پر سید شہاب الدین کے سانحۂ ارتحال کے تعلق سے منعقدہ تعزیتی جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سید شہاب الدین ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ سید شہاب الدین اپنے مقاصد کے حصول کے تئیں پُر عزم رہتے تھے اور انہوں نے مسلم انڈیا کی اشاعت کے ذریعہ ملک میں ایک جدید مثبت صحافت کی بنیاد رکھی۔انہوں نے کہا کہ سید شہاب الدین نے انگریزی زبان میں مسلمانوں اور ملک کے ہندو مسلم اتحاد پر جتنا لکھا وہ خود میں ایک مثال ہے اور اس موضوع پر کسی دانشور نے اتنا نہیں لکھا۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ سید شہاب الدین کا سب سے اہم رول میرٹھ کے ملیانہ اور ہاشم پورہ واقعات کو اجاگر کرنا تھا۔سید شہاب الدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم انڈیا کی دوبارہ اشاعت سید شہاب الدین کو سچا خراجِ عقیدت ہوگا۔ اے ایم یو کورٹ کے رکن پروفیسر ہمایوں مراد نے کہا کہ1978میں سید شہاب الدین نے آئی ایف ایس خدمات سے مستعفی ہوکر ملک کی سیاست میں حصہ لیا اور وہ دو مرتبہ لوک سبھا اور ایک مرتبہ راجیہ سبھا کے رکن رہے اور انہوں نے پارلیامنٹ ہی میں نہیں بلکہ قومی سیاست پر اپنے واضح نقوش ثبت کئے۔ڈاکٹر محمد شاہد نے کہا کہ سید شہاب الدین اعلیٰ عقلی سطح کے دانشور تھے اور بابری مسجد کی شہادت کے بعد انہوں نے بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے ذریعہ تحریک چلانے میں مثبت کردار ادا کیا۔ڈاکٹر غلام فرید صابری نے کہا کہ سید شہاب الدین نے ہندوستانی مسلمانوں میں ایک نئی بیداری پیدا کی تھی جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے مسائل اور توقعات پر قومی سطح پر فکر کا آغاز ہوا۔ڈاکٹر فاروق خاں نے کہا کہ سید شہاب الدین ایک سیاست داں، ماہرِ سیاسیات، صحافی اور وکیل کے ساتھ انسانی اقدار کے علمبردار دانشور تھے۔ انہوں نے نوجوان طبقہ میں سلگتے مسائل کے تئیں بیداری پیدا کی۔این جمال انصاری نے کہا کہ سید شہاب الدین کا سفرِ حیات ہندوستانی سیاست کا آئینہ دار ہے۔ نوجوانی میں بائیں بازو کی فکر والے سید شہاب الدین دائیں بازو کی جانب چلے گئے جو ہندوستانی سیاست کی سمت کی مظہر ہے۔واضح ہوکہ سید شہاب الدین کے جنازے میں علی گڑھ سے ماہنامہ داعلی گڑھ موومینٹ کے مدیرِ اعلیٰ ڈاکٹر جسیم محمدنائب صدر جمہوریۂ ہند مسٹر حامد انصاری کے ساتھ شامل ہوئے جبکہ سینئر ممتاز صحافی مسٹر قربان علی بھی جنازے میں موجودتھے۔ تعزیتی جلسہ کے اختتام پر دو منٹ کی خاموشی اختیارکرکے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔ تعزیتی قراردادمیں ماہنامہ داعلی گڑھ موومینٹ اورعلیگ برادری نے مسلم انڈیا کی دوبارہ اشاعت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس پرسنجیدگی کے ساتھ غورکئے جانے کاعہدکیاگیا۔