سابق رکن اسمبلی کے قتل معاملے میں مختارانصاری اور افضال انصاری سمیت تمام ملزمین بری
12:19PM Wed 3 Jul, 2019
Share:
سابق رکن اسمبلی کرشنا نند رائے قتل معاملے میں مختارانصاری سمیت دیگرملزمین کو عدالت سے بڑی راحت ملی ہے۔ دہلی کی سی بی آئی کورٹ نے اس معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے سبھی ملزمین کوبری کردیا ہے۔ ملزمین مختارانصاری، رکن پارلیمنٹ افضال انصاری، سنجیو مہیشوری، اعجازالحق، راکیش پانڈے، رامو ملاح، منصورانصاری اورمنا بجرنگی شامل تھے۔
ان سبھی میں سے ملزم منا بجرنگی کی موت ہوچکی ہے۔ واضح رہے کہ سابق رکن اسمبلی کرشنا نند رائے کا 2005 میں قتل کردیا گیا تھا۔ وہ موجودہ رکن اسمبلی تھے۔ اس حادثہ نےاس وقت بڑا سیاسی طوفان کھڑا کردیا تھا، جس کا الزام ڈان لیڈرمختارانصاری سمیت دیگرلوگوں پرعائد کیا گیا۔ حالانکہ عدالت نے مختارانصاری اوران کے بھائی افضال انصاری سمیت دیگرتمام ملزمین کوبری کردیا ہے۔ مختارانصاری بی ایس پی کے رکن اسمبلی ہیں جبکہ ان کے بھائی افضال انصاری بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ ہیں۔
موجودہ وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے دیا تھا دھرنا
سابق رکن اسمبلی کرشنا نند رائے کے قتل کی مخالفت میں اورقصورواروں کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے بی جے پی کےسینئرلیڈراورموجودہ وزیردفاع راجناتھ سنگھ چندولی میں دھرنے پربیٹھ گئے تھے، جس کے بعد اس معاملے کو سی بی آئی کو سونپ دیا گیا تھا۔ ایسے میں تقریباً 13 سال تک عدالت میں معاملے کی سماعت کے بعد مختارانصاری اورافضال انصاری سمیت تمام کو ثبوتوں کی کمی کی بنیاد پربری کردیا گیا ہے۔