سینکڑوں امیت شاہ بھی آئیں توبی جے پی ریاست میں حکومت نہیں بناسکتی:سدارامیا

04:15PM Mon 14 Aug, 2017

بنگلور( بھٹکلیس نیوز ):۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ جیسے سینکڑوں لوگ آئیں تو بھی بی جے پی کی حکومت نہیں بنا سکتے۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ سب سے پہلے وہ ا س بات کی وضاحت کرناچاہتے ہیں کہ شمالی ہندوستان کے ریاستوں کی بات الگ ہے اور کرناٹک کی ہی الگ بات ہے ۔ کرناٹک کے لوگ تعلیم یافتہ اور حالات کے مطابق مناسب فیصلہ کرتے ہیں۔ شمالی ہندوستان کی ریاستوں اور نارتھ ایسٹ ریاستو ں میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کے ذریعہ اور لوگوں کو ڈرا دھمکا کربی جے پی نے کامیابی حاصل کی تھی اور کئی اراکین اسمبلی کو بلیک میل کیا تھا۔ کئی اراکین اسمبلی کوسی بی آئی اور انکم ٹیکس کے چھاپے کرانے کی دھمکی دی تھی جس سے سیاسی حالات اچانک بدل گئے۔ امیت شاہ کون ہے وہ ایک مجرم ہے اور گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات کرائے تھے۔نقلی انکاؤنٹر اور دیگر کئی سنگین معاملات کاملزم ہے۔اگر نریندرمودی وزیر اعظم نہ ہوتے تو شاید امیت شاہ سلاخوں کے پیچھے ہوتا ۔گجرات اسمبلی سے راجیہ سبھا کے تین سیٹوں کیلئے ہوئے انتخابات میں امیت شاہ نے کانگریس کے اراکین اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کی تھی اور صرف چھ اراکین اسمبلی کو خریدنے میں کامیاب رہے تھے۔ کانگریس کے اُمیدوار احمد پٹیل نے زبردست کامیابی حاصل کی اور نریندرمودی کے علاوہ امیت شاہ کی تمام سیاسی چالوں کو ناکام کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں جے ڈی ایس اور بی جے پی کی حکومت لوگو ں کی اُمیدوں پر اترنے میں ناکام رہی ہے۔صر کانگریس ہی عوام کے اعتماد کو حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے اور لوگوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔اگر امیت شاہ عمر بھر بھی کرناٹک میں قیام کیا تو بھی بی جے پی کو برسراقتدار لانا ممکن نہیں۔ عوام نے بی جے پی پر اعتماد کرکے اسے حکومت بنانے کا موقعہ دیا تھا۔یہ حکومت پانچ سال کی معیاد میں تین وزرائے اعلیٰ بدلے گئے ۔ایک سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یڈ یورپا کو جیل جانا پڑا تھااور کئی سابق وزراء بھی جیل کی ہوا کھا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کے کارناموں اور اس کے ذریعہ جاری کردہ مختلف اسکیموں اورپروگرامو ں کے ذریعہ تمام فرقہ کے لوگوں کی حمایت حاصل کرچکی ہے۔دوسری طرف احمدپٹیل کی شاندار کامیابی اور وزیر برائے توانائی ڈی کے شیواکمار کے مکان پر محکمۂ انکم ٹیکس کے چھاپوں سے پارٹی مزید مضبوط ہوئی ہے اور ان چھاپوں سے بی جے پی کی امیج کو سخت نقصان پہنچا ہے ۔انہو ں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے ضرورت سے زیادہ بی جے پی کی تشہیر کررہا ہے ۔ان کی حکومت کوئی بھی اچھا کام کرتی ہے تو اس کی تشہیر نہیں ہوتی اور کوئی بھی نیا کام شروع کرتی ہے تو اس کی مخالفت ہوتی ہے۔حکومت نے غریب اور مزدور لوگوں کو کم قیمت میں ناشتہ اور کھانا فراہم کرانا چاہتی ہے تو اس کی مخالفت کی جاتی ہے ۔اندرا کینٹ اسکیم شروع کی گئی تو اس کی مخالفت کی گئی۔ مندروں کے احاطہ، پارکوں اور کھیل میدانوں میں کینٹن کھولے جانے کا الزام لگایا گیا۔ سب سے پہلے سچائی اور حقائق کو جاننے کی ضرورت ہے اور حکومت کو بدنام کرنے کے لئے چند ٹی وی چینل اور اخبارات سرگرم ہیں۔