عراقی فوجیوں کا ’داعش جنگجوؤں کے ہاتھوں قتلِ عام‘
04:37PM Tue 17 Jun, 2014


عراق میں موصل اور تکریت پر قبضہ کرنے والی جنگجو تنظیم دولت اسلامی عراق والشام نے انٹرنیٹ پر تصاویر جاری کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے جنگجو عراقی فوجیوں کا قتلِ عام کر رہے ہیں۔
ان تصاویر میں نقاب پوش جنگجو کئی عراقی فوجیوں کو ٹرکوں پر سوار کر کے دکھایا گیا ہے جس کے بعد انہیں کھائیوں میں لیٹا ہوا دکھایا گیا ہے جن میں ہلاک کرنے سے قبل اور بعد کی تصاویر شامل ہیں۔
عراق میں موصل اور تکریت پر قبضہ کرنے والی جنگجو تنظیم دولت اسلامی عراق والشام نے انٹرنیٹ پر تصاویر جاری کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے جنگجو عراقی فوجیوں کا قتلِ عام کر رہے ہیں۔
ان تصاویر میں نقاب پوش جنگجو کئی عراقی فوجیوں کو ٹرکوں پر سوار کر کے دکھایا گیا ہے جس کے بعد انہیں کھائیوں میں لیٹا ہوا دکھایا گیا ہے جن میں ہلاک کرنے سے قبل اور بعد کی تصاویر شامل ہیں۔
بظاہر آئی ایس آئی ایس کی جانب سے پوسٹ کی جانے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجیوں کے ساتھ کیسا بہیمانہ سلوک کیا گیا جب انہیں تکریت کے ایک فوجی اڈے پر قبضے کے بعد گرفتار کیا گیا۔
تصاویر میں بڑی تعداد میں نوجوان فوجیوں کو دیکھا جا سکتا ہے جنہیں ٹرکوں پر سوار کر کے لیجایا جا رہا ہے۔
ان تصاویر کے کیپشن میں لکھا گیا ہے کہ انہیں ان کی موت کی جانب لیجایا جا رہا ہے۔
بعض تصاویر میں جنگجوؤں کو اپنے قیدیوں پر فائرنگ کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
باغیوں کی تحریک میں موجود ذرائع جن کا تعلق آئی ایس آئی ایس سے نہیں ہے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اندازاً ایک ہزار کے قریب اہلکاروں کو قتل کیا گیا ہے جنہیں سبايكر کے فوجی اڈے سے پکڑا گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے انہیں باقاعدہ فوجی دستوں میں تقسیم کیا جنہیں آزاد کر دیا گیا جبکہ شیعہ ملیشیا کے رضا کاروں اور حکومت کے ایلیٹ گولڈن برگیڈ کو مارنے کا حکم دیا گیا۔
عراقی فوج کے ترجمان جنرل قاسم عطا نے کہا کہ فوج نے شدت پسندوں کے خلاف کئی علاقوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں جن میں 279 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا تاہم اس تعداد کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
موصل کے مغرب میں واقع تل عفر نامی قصبے میں شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں جبکہ حکومتی افواج کا اجتماع بغداد کے شمال میں سامراء میں جاری ہے جو تکریت پر حملے کی تیاری میں جاری ہے۔
BBC URDU