راج ناتھ سنگھ کی کشمیرمیں حالات معمول پرلانے کی ڈیڈ لائن ختم، صورت حال جوں کی توں

03:19PM Mon 19 Sep, 2016

مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی جانب سے 11 ستمبر کو وادی کشمیر میں حالات کو ایک ہفتے کے اندر معمول پر لانے کی ڈیڈلائن ختم ہونے کے باوجود کشمیر کی صورتحال جوں کی توں بنی ہوئی ہے۔ وزیر داخلہ نے 11 ستمبر کو نئی دہلی میں اعلیٰ سیکورٹی افسران کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران سیکورٹی فورسز کو کشمیر میں تشدد بھڑکانے والوں کے خلاف فوری کاروائی کرنے کی ہدایت دی تھی اور اُن سے وادی کے حالات ایک ہفتے کے اندر معمول پر لانے کے لئے کہا تھا۔ مسٹر راجناتھ سنگھ نے میٹنگ کے دوران کہا تھا کہ وادی میں تعلیمی ادارے اور دکانیں و تجارتی مراکز جو 9 جولائی سے بند پڑے ہیں، کھولے جانے چاہئیں۔ اگرچہ اس ہدایت کے بعد جموں وکشمیر پولیس نے وادی میں پتھراؤ کے واقعات میں ملوث افراد خاص طور پر نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ تیز کر دیا اور ہر روز تقریباً50 افراد کو حراست میں لیا جاتا ہے جن میں سے اب تک سینکڑوں افراد پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کیا جاچکا ہے۔ تاہم اس کے باوجود وادی کے اطراف واکناف میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں، آزادی حامی ریلیوں اور جلسوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے۔ کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے ایک تجزیہ کار نے بتایا کہ وزیر داخلہ کی کشمیر میں تشدد بھڑکانے والوں کے خلا ف کاروائی کرنے کی ہدایت اور حالات کو ایک ہفتے کے اندر معمول پر لانے کی ڈیڈلائن ریاستی وزیراعلیٰ کے اس بیان کہ ’وادی میں صرف پانچ فیصد لوگ ایسے ہیں جو خرمن امن کو بگاڑتے ہیں‘ کے بعد سامنے آئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر داخلہ نے ہدایت اور ڈیڈلائن جاری کرتے وقت یہ ذہن میں رکھا ہوگا کہ اگر وادی میں تشدد بھڑکانے والے پانچ فیصد لوگوں کے خلاف قانونی کاروائی کی گئی تو وادی کے حالات معمول پر آجائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر کے حالات کو تمام متعلقین کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہی معمول پر لایا جاسکتا ہے۔ دریں اثنا وادی میں علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی ہڑتال کی کال کے باعث معمولات زندگی پیر کو مسلسل 73 ویں روز بھی مفلوج رہے۔ وادی بھر میں تمام دکانیں اور تجارتی مراکز 9 جولائی سے بند پڑے ہیں، جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورت کی آواجاہی معطل ہے۔ وادی کے تقریباً تمام تعلیمی ادارے یکم جولائی سے بند ہیں، جبکہ سرکاری و نجی دفاتر میں معمول کا کام کاج متاثر ہے۔ پولیس نے بتایا کہ گرمائی دارالحکومت سری نگر کے پائین شہر اور سیول لائنز کے بتہ مالو میں کرفیو جبکہ باقی ماندہ علاقوں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت لوگوں کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی بدستور جاری رکھی گئی ہے۔