انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس بنگلور کے سائنس دانوں نے سونامی کا انتباہ دینے والا آلہ تیار کیا

01:00PM Tue 30 Jan, 2018

بنگلور۔30 جنوری(بھٹکلیس نیوز بیورو )ریاضی کے ایک ایسے ماڈل کا تصور کیجئے جو جادو کی چھڑی میں تبدیل ہو کر سونامی کے آنے کا انتباہ پیش کرے اور جب وہ دور دراز کے ساحلوں تک پہنچے تو اس کی شدت کا اندازہ اور اس کی پیمائش کی صلاحیتوں سے مالا مال ہو جس کے ذریعہ خطرے کے مقامات سے لوگوں کو نکال لینا اور نقصانات سے حفاظت ممکن ہو سکے۔بنگلور کی انسٹیٹیوٹ آف سائنس (آئی آئی ایس سی) کی ایک ٹیم ، یونیورسٹی لندن کالج (یو سی ایل )، لندن اسکول آف ایکنامکس اور شہر میں واقع انڈین انسٹیٹیوٹ آف ہیومن سیٹلمنٹ کے پروفسران کے ساتھ مل کر بالکل اسی منصوبہ پر کام کر رہے ہیں۔سال 2014 میں شروع کردہ یہ منصوبہ جسے ۔۔۔’’مغربی ہندوستانی سمندر کے لئے سونامی کے خطرات: سائنس کو پالیسی اور اقدامات کے ساتھ جوڑنا‘‘۔۔۔ کا نام دیا گیا ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبہ اگلے دو سالوں میں ہندوستان کو سونامی کے خطرات سے آگاہ کرنے والے آلات سے لیس کر سکتا ہے۔اس منصوبہ کو برطانیہ کے رایل سوسائٹی، نیشنل اینورانمنٹ رسرچ کونسل (این ای آر سی) اور گلوبل چیلنجس ریسرچ فنڈس(جی سی آر ایف) کی طرف سے مالی تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔انڈین انسٹیٹیوٹ کے مرکز برائے ارضی سائنس کے جیو فزسٹ پروفیسر کوسالا راجیندرن نے بتایا کہ’’اگرچہ کہ دنیا میں سونامی کی وارننگ دینے والا ایسا کوئی ظاہری آلہ موجود نہیں ہے ، لیکن مکمل طور پر جانچ کردہ کمپیوٹر آلگو رتھم میں اس کی صلاحیت پائی جاتی ہے کہ اس کے آنے کی اطلاع قبل از وقت دے سکے۔اگر اس کی پوری طرح تیاری ہو جائے اور بیاتھی میٹری جیسے اعلیٰ معیاری ڈیٹا کے سہارے، سمندر میں پانی کی گہرائی کی پیمائش کے ذریعہ، یہ ممکن ہے کہ کم سے کم غلطیوں کے ساتھ مختلف مقامات پر اس کی سیلابی شدت کا پتہ لگایا جا سکے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ’’ہمارا مقصد یہ ہے کہ ، سائنسی سمجھ کو ترقی دیں تاکہ احتیاطی طریقہ کار جیسے شہری منصوبہ بندی کی میپنگ کرنا تاکہ آئندہ دنوں میں سونامی کے نقصانات سے لوگوں کو محفوظ رکھا جا سکے ‘‘۔اس منصوبہ کے ایک اور ماہر محقق اور آئی آئی ایس سی کے شعبہ برائے سیول انجنئیرنگ کے اسٹرکچرل انجنئیرنگ ڈویژن کے پروفیسر دیباشش رائے کا کہنا ہے کہ’’ہمارا جاریہ منصوبہ جو سونامی کی جانچ سے متعلق ہے وہ ریاضی کی ماڈلنگ پر مبنی ہے، ہم ایک سافٹ ویر آلہ تیار کر رہے ہیں جو ظاہری اور ریاضی کی بنیادیں فراہم کر سکتا ہے جس کی مدد سے سونامی کے آنے اور دوردراز ساحلوں تک اس کے پہنچنے سے متعلق پیشین گوئی کی جا سکتی ہے‘‘۔یہ تین سالہ منصوبہ ہندوستان کے ساتھ مخصوص ہے اور بحر ہند میں سونامی لہروں کی ریاضی ماڈلنگ پر زیادہ توجہ دیتا ہے اور اس میں بھی خاص طور پر انڈمان، سوماترا اور مکران کے جوشیلے علاقہ پر زیادہ توجہ دیتا ہے جہاں زلزلوں اور سونامی کے پیدا ہونے کے اندیشے زیادہ ہوتے ہیں۔رائے کا کہنا ہے کہ یہ آلہ سال 2004 کے سوماترا کے زلزلہ اور سال 1945 مکران کے زلزلہ کے نمونوں کی بنیاد پر تیار کیا جا رہا ہے۔