بزم کے صدر اعجاز حیدر نے تقریب کے صدر، مہمانانِ خصوصی و اعزازی، شعرائے کرام اور معزز سامعین اور شرکائے مجلس کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا ، انہوں نے راقم اعظمی کا خصوصاً پروگرام کی جگہ اور ریفریشمینٹ کے انتظام پر شکریہ ادا کیا۔ جن نامور اشخاص نے اس تقریب کو رونق بخشی ان میں خالد داد خان ، صدرانجمنِ محبانِ اردو ہند ، ابراہیم خان بانی انجمنِ محبانِ اردو ہند ، سینئیر شاعر اور پاک شمع اسکول کے پروفیسر شفیق اختر، ہر دلعزیز ڈاکٹر توصیف ہاشمی، انجینئیرّ آصف ناخدا اور اسامہ طاہر وغیر ہ شامل ہیں ۔
آخر میں تمام شعرائے کرام اور مہمانان کے گروپ فوٹو لئیے گئے ۔۔۔۔ تقریب میں شامل غزلوں سے منتخب اشعار۔
امجد علی سرور
گر ملے ہو تو دعاؤں کے خزینے لے جاؤ
کون جانے کبھی ملنے کے بھی فرصت نہ ملے
دولت علم و ہنر بانٹ چلو اے سرور
بزمِ احباب کو شاید یہ سعادت نہ ملے
ڈاکٹر آفتاب مجاہد
مختصر سی بھی ملاقات کی فرصت نہ ملے
اتنا مصروف نہ ہو جاؤ کہ چاہت نہ ملے
اتنا سنجیدہ کوئی دوست کہاں ملتا ہے
دشمنی دل سے مٹادو کہیں نفرت نہ ملے
انمول اتفاق
مل گئی راہ طلب جانب منزل جو گئے
کشمکش میں ہیں جنہیں نقشِ ہدایت نہ ملے
طریف مہر بلوچ
بزم ہے ، جام ہے اور آپ ہیں پہلو میں میرے
حاکمِ وقت کو بھی ایسی سعادت نہ ملے
رضا نقوی
جب کوئی دور چلا جاتا ہے مرکز سے تو پھر
ذوقِ ایمان و عبادت میں حلاوت نہ ملے
سعادت علی سعادت
بزمِ اردو میں جلاتے ہیں یہ اردو کے چراغ
غیر ممکن ہے سعادت اسے عزت نہ ملے
جس کے ملنے سے طبیعت میں غرور آجائے
اے خدا مجھ کو کبھی ایسی بھی شہرت نہ ملے
محمد عباس عباسی
حیف اس درد پہ جس درد میں لذت نہ ملے
خوئے الفت نہ ملے، حسن، رفاقت نہ ملے
انُ سے عباس یہ کہنا کہ بس اتنا کریں
میری تربت پہ جب آئیں تو اذیت نہ ملے
رضا حسن
ہم جو ہر بات صاف کرتے ہیں
سب کو اپنے خلاف کرتے ہیں
کرسیاں دو ہیں صرف دفتر میں
چار افسر طواف کرتے ہیں
محمد طاہر جمیل
بعد مدت کے جلائیں چلو یادوں کے چراغ
کون جانے کہ یہ لمحہ، یہ رَفاقت نہ ملے
میں نے تو جان لٹا دی تُجھے پانے کے لئیے
’’ یہ بھی ممکن ہے مجھے تیری محبت نہ ملے‘‘
راقم اعظمی
ہم جلاتے ہیں محبت کے شب و روز چراغ
تیرے ہونے کی مگر کوئی شہادت نہ ملے
محمد اطہر اعظمی
ساتھ مل بیٹھیں تو اے رب ہمیں پتھر کردے
تاکہ پھر تم سے بچھڑنے کی اجازت نہ ملے
سر میں سودا نہ ہو گر تیرا تو حاصل یہ ہے
میری تحریر سے میری ہی عبارت نہ ملے
منصور اعظمی
بن بلائے ہوئے مہمان کی صورت یارو
کیسی ہوگی ذرا سوچو جہاں دعوت نہ ملے
میر و غالب کے کہیں ہیں، کہیں اقبال کے رنگ
آپ کے رنگ کسی شعر میں حضرت نہ ملے
اعجاز حیدر
یہ بھی ممکن ہے کہ میں چاک پر آجاؤں اور
کوزہ گر کو میرے معیار کی صورت نہ ملے
محسن حبیب
شہر میں کون ہے جس کو تیری چاہت نہ ملے
ایک ہم ہیں کہ ترے در کی اجازت نہ ملے
احمد اشفاق
یہ بھی ممکن ہے کہ تو چھوڑ دے آنا جانا
یہ بھی ممکن ہے مجھے تیری اجازت نہ ملے
تجھ سے تجدیدِ تعلق کا ارادہ ہے مگر
ایک خدشہ ہے کہیں پہلی سی چاہت نہ ملے
آصف شفیع
ہم نے تو زندگی گزاری ہے
تم تو آئے ہو اب محبت میں
جو بھی کہنا ہے اسے آج ہی کہہ دو آ صف
یہ بھی ممکن ہے تجھے کل یہ سہولت نہ ملے
شوکت علی نازؔ
یہ بھی ممکن ہے کہ میں تجھ میں رہوں تا دمِ مرگ
’’ یہ بھی ممکن ہے مجھے تیری محبت نہ ملے‘‘
وقت آئے نہ کبھی ایسا میرے داستاں گو
قصہ خوانی کو تجھے میری حکایت نہ ملے