پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث عوامی نمائندوں اور لیڈروں کو بخشا نہیں جائے گا:وینوگوپال

04:03PM Sun 24 Sep, 2017

بنگلور(بھٹکلیس نیوز):۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور کرناٹک میں پارٹی معاملات کے نگران کار کے سی وینو گوپال نے کہاکہ پارٹی کے اندر مخالف سرگرمیوں اور مخالف بیانات کوبالکل برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس طرح کے معاملات میں ملوث عوامی نمائندوں اور لیڈروں کو بخشا نہیں جائے گا۔انہوں نے مقامی مہادیواپورہ اسمبلی حلقہ میں پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے شروع کردہ پروگرا م گھر ۔گھر کانگریس مہم کا افتتاح اور سدارامیا حکومت کے کارناموں اور بی جے پی کی سابقہ حکومت او ر نریندرمودی کی مرکزی حکومت کی جانب سے مخالف پالیسوں۔رواداری۔ فرقہ وارانہ فسادات اور دیگر واقعات پر مبنی کتابچہ کا اجراء کرتے ہوئے کہا کہ اب اسمبلی انتخابات قریب آرہے ہیں او ر کانگریس نے اس کے لئے پوری تیاریا ں شروع کردی ہیں اور اس میں سے ایک گھر۔گھر کانگریس ہے ۔کئی سابق اراکین اسمبلی اور دیگر لیڈروں نے کانگریس چھوڑ کر بی جے پی اور دیگر پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرنے لگے ہیں۔کسی کو پارٹی میں رہنے کی گذارش نہیں کی جائے گی۔ پارٹی چھوڑ کر جانا ہے تو جاسکتے ہیں اور ایک شخص کو اس کے اختیارات ہیں اور اختیارات کے تعلق سے کوئی سوال نہیں کرسکتا۔ پارٹی کو چھوڑ کر جانے والوں کو دھوکہ بازاور مفاد پرست ہی کہا جاسکتا ہے ۔جب تک پارٹی میں رہے یہاں سب کچھ حاصل کیا اور خوب فائدہ اٹھایا اور اب مزید کچھ حاصل کرنے کے لالچ سے دوسری پارٹیوں کو جارہے ہیں۔ کئی لیڈرس آئے اور چلے گئے اس سے پارٹی کو کوئی نقصان نہیں ہے۔کئی لیڈروں نے پارٹی چھوڑ کر افسوس کا اظہار کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کے عوامی نمائندوں نے انتخابات کے قریب ہی پارٹی کے خلاف بیانات دینے کے علاوہ پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا پتہ چلا ہے۔ ان عوامی نمائندو ں کو چاہےئے کہ وہ اپنی زبان بند رکھے ورنہ ان کے خلاف تادیبی کاروائی کی جاسکتی ہے۔اگر پارٹی چھوڑنا ہے تو چھوڑ کرجاسکتے ہیں ۔کانگریس پارٹی صرف ایماندار کارکن کی وجہ سے ہی آج مضبوط بنیاد پر کھڑی ہے۔اس موقعہ پر وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ ان کی حکومت نے انتخابات سے قبل لوگوں سے کئے گئے 165 وعدوں میں سے 95 فیصدی وعدوں کو پورا کیا ہے اور اس کی جانکاری او رمعلومات لوگوں تک پہنچانے کے مقصد سے کتابوں کو شائع کیا گیا ہے ۔اگر اس کتاب میں کئے گئے وعدے جھوٹے ہیں تو کوئی بھی ثبوت پیش کیا جائے وہ ان وعدوں اور دعوے کو لیکر کسی بھی مقام ، کسی بھی دن اور کسی بھی وقت لوگو ں کے سامنے بحث اور چرچہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ کانگریس نے انتخابات سے قبل اپنے انتخابی منشور کے ذریعہ کئے گئے وعدوں کو پورا کیا ہے اور اس کے لئے فنڈ بھی جاری کیا تھا۔ آج ان کی حکومت نے کئی کامیاب اسکیموں اور پروگراموں کو جاری کرنے سے لوگ پیٹ بھر کر کھانا کھارہے ہیں اور کسانوں کو کئی سہولیات فراہم کرانے سے کسا ن روزگار کی تلاش میں پڑوسی ریاستوں کو جانابند کردیا ہے۔ریاست میں ابھی بارش ہوئی ہے اور ریاست کے تمام اضلاع او رتعلقہ جات کے دیہاتوں میں کھیتی کی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کے باشندوں کوبی جے پی کی مخالف پالیسی اور اس کے ناپاک ارادوں کے تعلق سے سب کچھ معلوم ہوچکا ہے اور بی جے پی کا ایک ہی مقصد ہے کہ لوگوں کے درمیان نفرت کا بیج ڈالکر فرقہ وارانہ فسادات کرانے کے ذریعہ اقتدار حاصل کرو۔ ریاست میں سابقہ بی جے پی نے گھوٹالے اور بدعنوانیوں کو انجام دے کر ایک ریکارڈ بنایا تھا ۔سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یڈی یورپا رشوت خوری اور گھوٹالوں میں ملوث ہونے پر جیل جاکر آئے تھے اور ان کے خلاف آج بھی سپریم کورٹ میں کئی معاملات زیر التوا ہیں۔ افسوس کہ بی جے پی نے دوبارہ یڈی یورپا کو وزیر اعلیٰ کے اُمیدوار کے طور پر اعلان کیا ہے۔ تمام ووٹر افراد کو آج سوچ اور سمجھ بوجھ کے ساتھ اپنا حق رائے دہندگان کرنے کی ضرورت ہے۔اگر فرقہ وارانہ فسادات کو ختم نہیں کیا تو اس ملک کو باہر سے نہیں اندرونی فرقہ پرست طاقتوں سے خطرہ ہے۔ اس موقعہ پر کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ ریاست میں وسط مدتی انتخابات نہیں ہوں گے اور اپوزیشن پارٹیوں نے کانگریس کی زبردست سرگرمیوں کی وجہ سے بوکھلا کر یہ اعلان کرکے لوگوں کو گمراہ کیا ہے کہ وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں ۔لوگوں نے پانچ سال تک حکومت کرنے کا موقعہ دیا ہے اور ا سکا بھر پور استعمال کیا جائے گا۔گھر گھرچلو پروگرام آج سے شروع ہوکر اگلے ماہ23 اکتوبر کو ختم ہوگا۔ کانگریس نے بوتھ سطح پر پارٹی کارکن کولیکر کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ریاستی اسمبلی کے 224اسمبلی حلقوں میں جملہ 54 ہزار 261بوتھ ہیں اور ہر ایک بوتھ کی حدود میں آنے والے تمام گھروں کو پارٹی کارکن جاکر کتابوں کی تقسیم کرنے کے علاوہ سدارامیا حکومت کے کارناموں ۔سابقہ بی جے پی حکومت کے گھوٹالوں اور نریندرمود ی حکومت کی ناکامی اور جھوٹے وعدوں کے تعلق سے معلومات اور جانکاری دیں گے ۔ ریاستی الیکشن کمیشن نے بھی تمام پارٹیوں کو بوتھ سطح پر کمیٹیاں تشکیل دینے کا اختیار دیا ہے ۔کانگریس نے تمام کمیٹیوں کے جملہ6.50 عہدیداروں کو پہچان کارڈس تقسیم کئے ہیں اور ہر بوتھ سطح پر سوشیل میڈیا کا استعمال ہوگا۔ اس موقعہ پر کئی وزراء ۔ اراکین پارلیمان ۔ اراکین اسمبلی اور کونسل پارٹی کے مختلف شعبہ جات کے عہدیداران اور بڑ ی تعداد پارٹی کارکن حاضر تھے۔