مسلم چیمبر نے سارے ملک میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کئے جانے کا مطالبہ کیا
01:08PM Mon 5 Sep, 2016
سرسید گائے کے ذبیحہ کے سخت خلاف تھے : ڈاکٹر جسیم محمد
عید الاضحےٰ پر قربانی کے فوٹو اور ویڈیو سوشل سائٹس پر نہ ڈالیں : مسلم چیمبر
علی گڑھ 05 ستمبر: ۔مسلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز( ایم سی سی آئی) نے ملک کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عید الاضحےٰ کے موقع پر گائے کی قربانی نہ کریں۔
ایم سی سی آئی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر جسیم محمد نے بتایا کہ ایم سی سی آئی کی ایکزیکیوٹو کمیٹی نے اتفاقِ رائے سے تجویز پاس کرکے ملک کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عید الاضحےٰ کے موقع پر گائے کی قربانی نہ کریں کیونکہ گائے کو ہماری تہذیب و ثقافت میں ایک خصوصی مقام حاصل ہے اور ہمارے ہندو بھائی اس کی پوجا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ اسلام کے مطابق گائے کی قربانی کرنا کوئی مجبوری نہیں ہے اور متعدد مسلم حکمرانوں اور سماجی مصلحین نے ماضی میں بھی گائے کے ذبیحہ کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور اس کی مخالفت کی ۔انہوں نے کہا کہ عظیم مصلح قوم، ماہرِ تعلیم اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں نے بھی مسلمانوں سے گائے کا ذبیحہ نہ کرنے کی اپیل کی تھی تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ سرسید نے ایم اے او کالج کے ایک ملازم کو محض اس لئے ملازمت سے معطل کردیا تھا کہ اس نے گائے کا ذبیحہ کیا تھا۔
ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ جن ریاستوں میں گائے کا ذبیحہ قانونی طور پر جائز ہے ایم سی سی آئی نے ان ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ قومی مفاد میں اپنی اپنی ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ پر مکمل طور پر پابندی عائد کریں۔
انہوں نے کہا کہ اسی کے ساتھ ملک بھر میں ضلع سطح پر پولیس کو بھی یہ یقینی بناناچاہئے کہ دیگر جانوروں جیسے بھینس اور بکروں وغیرہ کی آمد و رفت اور کاروبار میں رخنہ پیدا نہ ہو کیونکہ مسلمانوں کا یہ مذہبی فریضہ ہے کہ وہ عیدالاضحےٰ کے موقع پر قربانی کریں۔
ایم سی سی آئی نے مسلمانوں سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ قربانی کے بعد جانوروں کے باقیات اور خون کو کھلی جگہ اور سڑکوں کے کنارے نہ پھینکیں بلکہ انہیں زمین کھود کر دفن کردیں۔ اسی طرح مسلم چیمبر نے اپیل کی ہے کہ مسلمان قربانی کی تصاویر اور ویڈیو سوشل سائٹس جیسے فیس بک، واہٹس اپ، ٹویٹر وغیرہ پر نہ ڈالیں کیونکہ اس سے ملک کے ایک مذہبی طبقہ کے جذبات مجروح ہوتے ہیں