فٹ پاتھ تا جروں کو بھی اب لائسنس حاصل کر نا ہو گا
04:53PM Mon 23 Jun, 2014
بھٹکلیس نیوز/23جون14
بغیر لائسنس کاروبار کرنے والوں پر جر مانہ اور جیل کی سزا بھی ہو سکتی ہے
بنگلور/فٹ پاتھ کے تاجروں ،ہوٹلوں سمیت ریاست بھر میں کھانے پینے کی چیزیں فر وخت کر نے والوں کو اب 4/اگست 2014ءسے قبل اپنا رجسٹریشن کروانا لازمی ہے ،رجسٹریشن نہ کرنے والوں پر کم سے کم 25/ہزار روپئے سے 5/لاکھ روپئے تک کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا ،اس کے ساتھ ساتھ جیل کی سزا بھی کاٹنی پڑے گی ،ریاست میں سال2011ء سے جاری کیا گیا مر کزی حکومت کا "فوڈ سیکورٹی اینڈ کوالٹی ایکٹ ۔2006"'کو 14/اگست سے سختی کے ساتھ عمل میں لائے جانے کا فیصلہ محکمئہ صحت نے کیا ہے ،اس ایکٹ کے تحت کھانے ،پینے کی اشیا ء فروخت کرنے والے تا جروں کو اپنا رجسٹریشن نہ کرائے جانے پر ایسے تاجروں کے خلاف سخت اقدامات کئے جانے کا فیصلہ محکمئہ صحت نے کیا ہے،گذشتہ روز اخباری کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے محکمئہ صحت کے کمشنر ایس این جئے رام نے بتایا کہ یکم جو لائی سے آن لائن رجسٹریشن کروا کرریاست کے کسی بھی سنڈیکیٹ بینک کی شاخ میں رجسٹریشن یا لائسنس فیس اداکی جا سکتی ہے ،سالانہ 12/لاکھ روپیوں سے کم کاروبار کر نے والے 100/روپئے ادا کر کے رجسٹریشن کروائیں ،اس سے زیادہ کاروبار کرنے والے تاجر وں کو 2/ہزار تا 5/ہزار روپئے لائسنس کی فیس ادا کر نی ہوگی ،4/اگست سے قبل رجسٹریشن کی کارروائی مکمل ہو نی ہے،اس کے درمیان رجسٹریشن نہ کروانےوالوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ،انہوں نے بتا یا کہ ریاست کی جملہ آبادی میں سے 5/فیصد یعنی تقریباً4/لاکھ افراد کھانے پینے کی اشیاء فروخت کا کاروبار کررہے ہیں ،جن میں فٹ پاتھ پر کھانے پینے کی چیزیں فروخت کرنے والے تاجر بھی شامل ہیں ،پھل ،ترکاری کا کاروبارکرنے والے بھی اس ایکٹ کی حد میں آئیں گے ،ان کا بھی رجسٹریشن ضروری ہے ۔
نمائش بھی نہیں کر سکتے :صرف رجسٹریشن ہی نہیں بلکہ مٹن اسٹال (گوشت کی دکان)سمیت سبھی کھانے پینے کی اشیاء کو عوام کے سامنے پیش کرنے کے لئے نمائش بھی نہیں کر سکتے ہیں 4/اگست کے بعد کھانے پینے کی چیزوں کی نمائش کھلے عام سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی ،اس کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء فروخت کر نے والوں کو مقررہ رقبہ کا ہی ڈسپلے لگانا ہوگا اور اب ڈسپلے بورڈ زکو فوڈ سیکوریٹی کمشنر کی طرف سے مقررکردہ رنگ کی صورت میں لکھا جانا چاہیئے ،انہوں نے مزید بتایاکہ فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے تحت پیکیجd) pakege (ڈرنکنگ واٹر کو بھی لایا گیا ہے ،اس پانی کی فروخت کر نے والوں کو ں بھی رجسٹریشن کروانا لازمی ہے ،بی آئی ایس یا آئی ایس آئی سرٹیکیفٹ کے بغیر پینے کا پانی تیار نہیں کیا جاسکتا اور اسکی نمائش اور فروخت کرنا جرم ہے ،یہ جرم کر نے والے افراد کو جیل کی سزااور جرمانہ عائد جائے گا ،کمشنر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان تمام کارروائیوں کو نبھانے کے لئے محکمئہ صحت میں عملہ کی قلت ضرور ہے مگر اس ایکٹ پر سختی سے عمل کئے جانے کے لئے ضروری عہدوں پر جلدبھرتی کی جائے گا۔
100/روپئے سالانہ12/لاکھ روپیوں سے کم کا کاروبار کر نے والوں کے لئے فیس،2/ہزار سالانہ 12/لاکھ روپیوں سے زیادہ کاتا5/ہزار کاروبار کرنے والوں کے لئے فیس،4/لاکھ افراد ریاست میںکھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والوں کی تعداد
آن لا ئن رجسٹریشن:آن لائن رجسٹریشن کروانے اورلائسنس حاصل کر نے کے لئے www.fssai.gov.inپر رابطہ کر سلتے ہیں اور فیس کی رقم سنڈیکیٹ بینک کی کسی بھی شاخ میں جمع کر سکتے ہیں ۔
پانی پوری ،ترکاری اور گوشت فروخت کرنے والوں پر بھی لاگو:سبھی طرح کی کھانے پینے کی چیزیں تیار کر نے والوں ،بیکرس،ہول سیل بیوپاری ،ڈسٹریبیوٹرس اور سیلرس ۔پانی پوری اور دیگر ٹھیلہ گاڑیوں سمیت فٹ پاتھ پر فروخت کی جانے والیکھانےپینے کی اشیاء فروخت کرنے والا تاجر ،مرغی (چکن)گوشت (مٹن) مچھلی شاپس ۔پھل (فروٹس) ترکاری ،ناریل پانیفروخت کرنے والوں ،مٹھائی کی دکان۔مشروب کی دکان ۔بار اینڈ ریسٹورنٹ ،کلب، کینٹین ،پیئینگ گیسٹ (پی جی) ہاسٹل اور شاپنگ مالس ۔کھانے پینے کی چیزوں کی سر براہی کرنے والے اور گوداموں کے مالکان فیئر پرائس ڈپو ۔فوڈ اسٹاک سنٹرس ،غذائی اجناس کے ایمپورٹرس ،کولڈ ڈرنکس تیار کرنے والی کمپنیاں اور کولڈ اسٹوریج ۔جلسوں ،تقاریب میں کھانا تیار کر نے والے باورچی ۔دودھ کے تاجر ۔پیکیج ڈرنکنگ واٹر مراکز کے لئے بھی لائسنس حاصل کرنا لازمی ۔