اردو کی ترقی کے لیے ہمیں مثبت سوچ اپنانے کی ضرورت ہے: پروفیسر ارتضیٰ کریم
02:28PM Mon 1 May, 2017
قومی اردو کونسل کے زیراہتمام’ہندوستان میں اردو کی آئینی اور قانونی حیثیت‘ کے موضوع پر دو روزہ سمینارکا اختتام
نئی دہلی۔(بھٹکلیس نیوز)ہمیں اردو کی ترقی کے لیے مثبت سوچ کے ساتھ کوشش کرنی ہوگی تبھی اردو کو اس کا مقام مل پائے گا۔ اردو کے فروغ میں ہماری تساہلی رکاوٹ بن رہی ہے۔ ہم اسکولوں میں اپنے بچوں کے داخلے کے وقت مادری زبان کے کالم میں ’اردو‘ کی جگہ ’سنسکرت‘ یا دوسری زبان لکھ دیتے ہیں۔ والدین کو اس سلسلے میں بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ باتیں جسٹس سہیل اعجاز صدیقی نے قومی اردو کونسل کے زیراہتمام منعقدہ سمینار ’ہندوستان میں اردو کی آئینی اور قانونی حیثیت‘ کے تیسرے اور آخری اجلاس میں صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے کہیں۔قومی اردو کونسل کے فائنانس کمیٹی کے ممبر جناب احتشام عابدی نے اس موقعے پر کہا کہ عدالتوں میں اردو زبان اپنی لطافت کی وجہ سے زندہ ہے ۔ اس اجلاس کا موضوع ’مرکزی/ریاستی قوانین اور قانونی مواد کی اردو میں دستیابی‘ تھا۔ اس سیشن میں جناب سید اقبال احمد، جناب ساجد علی، جناب سعود احمد اور جناب خلیل احمد نے مقالے پڑھے۔اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر ظفر محفوظ نعمانی نے کی۔ قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اس موقعے پر کہا کہ ہمیں اردو کو اپنے گھروں میں زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ہم کسی ایک غیراردوداں کو اردو زبان سکھانے کی کوشش کریں گے تو یہ اردو کی بڑی خدمت ہوگی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اردو کی ترقی کے لیے ہمیں مثبت سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔اس سے قبل سمینار کے دوسرے دن کا پہلا اجلاس محترمہ ریتا وسشٹ کی صدار ت میں منعقد ہوا۔ سیشن کا پہلا مقالہ پروفیسر منیر عالم نے پیش کیا۔ انھوں نے اپنے مقالے میں اردو میں روزگار پیدا کرنے کے وسائل پر پرمغز گفتگو کی۔ سمینار کا دوسرا مقالہ ڈاکٹر محمد ظفر محفوظ نعمانی نے ’عدالت کے فیصلوں میں اردو زبان کی اہمیت‘ پر پڑھا۔ انھوں نے دستورِ ہند کی روشنی میں عدالتوں کے فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ عدالتوں میں اردو زبان کا خوب استعمال ہوتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ زبان کے تعلق سے سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل ستائش ہے جس میں لسانی اقلیتوں کی زبان کے تحفظ کی بات کی گئی ہے۔ مصباح الدین صدیقی نے اردو میں قانونی ادب کے فروغ کے لیے مرکزی حکومت کے اقدامات پر مقالہ پڑھا۔ ’انتظامیہ اور عدلیاتی و نیم عدلیاتی اداروں میں اردو کی معنویت‘ کے موضوع پر منعقدہ اس اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر ریتا وسشٹ نے اردو زبان کی اہمیت پر بڑی خوبصورت گفتگو کی۔ انھوں نے خالص اردو زبان میں تقریر کی اور بتایا کہ اردو ہمیں وراثت میں ملی۔ ہمارے والد نے اردو میں تعلیم حاصل کی اور میں بھی اردو زبان سے حد درجہ محبت رکھتی ہوں۔ انھوں نے مثال دے کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ عدالتوں، پولیس محکموں یا دیگر اداروں میں بھلے ہی دیوناگری رسم الخط کا استعمال ہوتا ہو لیکن زیادہ تر الفاظ ارد وکے ہوتے ہیں۔ انھوں نے ایسے اہم موضوع پر سمینار کرانے کے لیے قومی اردو کونسل کا شکریہ ادا کیا۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے سابق ڈائرکٹرڈاکٹر محمد حمیداللہ بھٹ نے ہندوستان کے آئین کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کا آئین دنیا کا سب سے بڑا جمہوری آئین ہے۔ ہمارے یہاں بنیادی حقوق سبھی کے لیے ہیں لیکن اقلیتوں کے لیے ہندوستانی آئین میں آرٹیکل 29 اور 30 کو بطورِ تحفہ دیا گیا ہے۔ سمینار کے اختتام پر قومی ارد وکونسل کے ڈائرکٹر نے مندوبین اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اس دو روزہ سمینار میں دہلی کے معززین کے علاوہ طلبا اور طالبات کی بڑی تعداد شریک تھی۔