بڑا فیصلہ: کھانے کی مصنوعات، نشریات اور فضائی سروس میں سوفیصد ایف ڈی آئی کی اجازت
12:21PM Mon 20 Jun, 2016
نئی دہلی۔ حکومت نے ملک میں روزگار میں اضافہ کرنے اور راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں تیزی لانے اور سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے ایف ڈی آئی پالیسی میں نرمی لاتے ہوئے آج کھانے کی مصنوعات، نشریات اور فضائی سروس میں سوفیصد ایف ڈی آئی کی اجازت دے دی ہے ۔ اس کے علاوہ فارما سوٹیکلس، سیکورٹی، دفاع اورسنگل برانڈ خوردہ کاروبار میں ایف ڈی آئی کے قوانین میں بھی بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں یہاں ہوئے ایک اعلی سطحی اجلاس میں اس سلسلے میں فیصلہ کیا گیا۔ مودی حکومت نے سات ماہ میں دوسری بار ایف ڈی آئی قوانین میں نرمی کی ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ حد میں اضافہ کیا ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ سال نومبر میں بھی ایف ڈی آئی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی گئی تھی۔
وزیر اعظم کے دفتر نے ایک پریس ریلیز میں اس کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ دوسرے دور کی تبدیلی سے ’’ہندوستان ایف ڈی آئی کے لئے دنیا کی سب سے زیادہ آزاد معیشت بن گیا ہے‘‘۔ وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، دفاع کے شعبے میں اب تک خود کار راستے سے 49 فیصد ایف ڈی آئی کی اجازت تھی جبکہ اس سے زیادہ سرمایہ کاری حکومت کی منظوری کے
ساتھ اسی حالت میں کی جا سکتی تھی جب اس سے ملک کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو۔ اب جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کی شرط ہٹا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دفاعی
شعبہ کے تحت چھوٹے ہتھیاروں اور گولہ بارود کو بھی ایف ڈی آئی کے لئے کھول دیا گیا ہے۔
نشریات کے شعبے میں ٹیلي پورٹس، ڈائرکٹ ٹو ہوم، کیبل نیٹ ورک سروس، موبائل ٹی وی، ہیڈینڈ-ان-دی اسکائی براڈ کاسٹنگ سروس ( ایچ آئی ٹی ایس) میں خودکار راستے کے بغیر سوفیصد ایف ڈی آئی کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ملک میں بنے یا تیار کھانے کی اشیاء کے کاروبار میں (ای کامرس سمیت) سرکاری منظوری سے صد فیصد سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی ہے۔ فارما کے شعبے میں فی الحال گرین فیلڈ منصوبوں میں خودکار طریقے سے یعنی ازخود اور براؤن فيلڈ منصوبوں میں سرکاری منظوری کے ذریعہ سے صدفیصد سرمایہ کاری کی اجازت ہے۔ اب براؤن فيلڈ منصوبوں میں 74 فیصد تک ایف ڈی آئی ازخود کی جا سکے گی جبکہ اس سے زیادہ سرمایہ کاری کے لئے منظوری لینی ہوگی۔