ایرکسن معاملہ: سپریم کورٹ نے انل امبانی کو توہین عدالت کے معاملے میں ٹھہرایا قصوروار، بقایا نہیں چکایا تو جاسکتے ہیں جیل

12:31PM Wed 20 Feb, 2019

سپریم کورٹ نے ریلائنس کمیو نکیشن کے چیئرمین انل امبانی سمیت ان کےدو ڈائریکٹرز کو توہین عدالت کے معاملے میں قصوروار قرار دیا ہے۔ یہ معاملہ ایرکسن انڈیا کو 550 کروڑ روپئے کی بقایا ادائیگی سے جڑا ہے۔ سپریم کورٹ انل امبانی اور ان دو ڈائریکٹرز کو چار ہفتوں کے اندر ایرکسن کو 453 کروڑ روپئے ادا کرنے کو کہا ہے۔ کورٹ نے اس کے ساتھ ہی کہا کہ اس طے شدہ وقت کے اندر پیمنٹ نہیں کرنے پر تینوں کو تین۔تین مہینے کی جیل کی سزا دی جائے گی۔
 ٹیلی کام ڈیوائز بنانے والی کمپنی ایرکسن نے بقایا ادا نہیں کرنے پر انل امبانی کے علاوہ ریلائنس ٹیلی کام کے صدر ستیش سیٹھ، ریلائنس انفراٹیل کی صدر چھایا ویرانی اور ایس بی آئی صدر کے خلاف سپریم کورٹ میں تین توہین عدالت کی عرضی دائر کی تھیں۔ اس سے پہلے جسٹس آر ایف نریمن اور اور جسٹس ونیت سرن کی بنچ نے عرضی پر 13 فروری کو سماعت کرتے ہوئے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔
ارکسن انڈیا کا الزام ہے کہ ریلائنس گروپ کے پاس رافیل ڈیل میں سرمایہ کیلئے رقم ہے لیکن وہ اس کے 550 کروڑ کے بقایا کی ادائیگی نہیں کر رہے ہیں۔ حالانکہ انل امبانی کی قیادت والی ریلائنس کمیونیکیشن نے اس الزام سے انکار کیا تھا۔ کمپنی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ریلائنس جیو کے ساتھ املاک کی فروخت کا سودا فیل ہونے کے بعد ان کی کمپنی دیوالیہ پن کیلئے کارروائی کر رہی ہے۔ ایسے میں رقم پر اس کا کنٹرول نہیں ہے۔ ریلائنس کمیونیکیشن آرکام ) نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس نے ارکسن کے بقایا ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے جیو کے ساتھ اس کا سودا نہیں ہو پایا۔