بیف سے متعلق معاملوں پر بھی پڑے گا رازداری کے حق پر فیصلہ کا اثر

11:54AM Sat 26 Aug, 2017

نئی دہلی :25 اگست۔ سپریم کورٹ نے آج کہا کہ رازداری کے حق کو بنیادی حق اعلان  کرنے کے اس کے فیصلے کا اثر مہاراشٹرا میں گوشت رکھنے سے متعلق معاملات پر بھی کچھ حد تک پڑے گا۔عدالت عظمٰی نے یہ تبصرہ ممبئی ہائی کورٹ کے 6 مئی 2016 کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران کیا جس میں ہائی کورٹ نے ایسے معاملات میں بیف رکھنے کو جرم کے زمرے سے باہر کر دیا تھا جن میں جانوروں کا ذبیحہ  ریا ست سے باہر کیا گیا ہو۔جسٹس اے کے سیکری  جسٹس اشوک بھوشن  کی بینک کو ایک وکیل نے بتایا کہ 9 ججوں کے آئینی بینچ کے ذریعہ رازداری کو بنیادی حق قرقر دینے کا کل دیا گیا فیصلہ بہت اہم ہے۔بینچ نے کہا کہ ہاں اس فیصلے کا اثر کچھ حد تک  ان معاملات پر بھی پڑے گا ۔سپریم کورٹ نے کل کہا تھا  یہ کسی کو بھی اچھا نہیں لگے گا کہ اسے یہ بتایا جائے کہ اسے کیا کھانا چاہئیے اور کیسے کپڑے پہننا چاہیئے انہوں نے کہا کہ یہ سرگرمیاں  رازداری کہ حق کہ دائرے میں آتی ہے۔کچھ درخواست گزاروں  کی جانب سے پیش سینئر وکیل  اندراجے سنگھ نے رازداری کے حق پر عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ  اپنی پسند کے کھانے کا حق اب رازداری کے حقوق کے تحت محفوظ ہے۔ انہوں نی بینچ کو بتایا کہ  ہائی کورٹ  کےفیصلے کو چیلینج دینے والی  مہاراشٹرا حکومت کی اپیل عدالت کی ایک دیگر بینچ کے سامنے زیرالتوا ہے۔دلیلوں کو سننے کے بعد  بینچ نے معاملے کو دو ہفتے کے لیئے ملتوی کردیا۔مہاراشٹرا حکومت نے ہائی کورٹ کے مہا راشٹرامویشی تحفظ (ترمیمی)ایکٹ 1995 کی دفعات 5(ڈی)اور 9(بی) کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو اگست  کو عدالت میں چیلینج دے رکھا ہےان دفعات کے تحت جانوروں کا گوشت رکھنا جرم ہے اور اس کے لیئے سزا بھی مقرر ہے چاہے ان جانوروں کا ذبیحہ ریست میں کیا گیا ہو یا ریا ست کے باہر ۔ (صحافت نیوز)