کتاب اﷲ اور سنتِ رسولﷺ کو حاصل کرنے والے بڑے خوش نصیب ہوا کرتے ہیں 

02:40PM Tue 9 May, 2017

دارالعلوم سعیدیہ کے جلسۂ دستار بندی سے حضرت امیر شریعت و دیگر علمائے کرام کے خطابات بنگلورو :(بھٹکلیس نیوز) حکیم الملت امیر شریعت مفتی محمد اشرف علی باقوی نے دارالعلوم سعیدیہ میں دارالعلوم سعیدیہ و سعیدیہ یتیم خانہ کے سالانہ جلسۂ دستار بندی میں مدرسہ کے فارغ التحصیل علماء ، قرأ و حفاظ کی دستار بندی و تقسیم اسناد کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہوا کرتے ہیں جہاں امت مسلمہ کے نونہالوں کو دینی علوم سے آراستہ کیا جاتا ہے ۔ دینی تعلیم کی بنیاد قرآنِ مجید سے ہے اور قرآن مجید کے ساتھ احادیث ہیں ، امیر شریعت نے کہا کہ نبئ کریم صلی اﷲ علیہ و سلم پر قرآن مجید نازل ہوا اور اسے قرآن مجید کو آپؐ نے انسانیت کے سامنے پیش کیا ، اور قرآنِ مجید کو سمجھانے او راﷲ تعالیٰ کی وحدانیت کو انسانیت تک پہنچانے کا کام سرانجام دیا۔دنیا کے تمام کام رسول اﷲ کی تشریف آوری کے موقع پر موجود تھے اور ہو رہے تھے او رکوئی کام رکا ہوا نہیں تھا جس کو سمجھانے یا سکھانے کی ذمہ داری اﷲ تعالیٰ نے رسولؐ کو دی ، نبئ کریم ﷺ دنیاوی چیزوں کو بتانے کیلئے نہیں بلکہ احکاماتِ خداوندی کو انسانیت کے آگے پیش کرتے ہوئے انہیں راہ راست پر لانے کیلئے بھیجے گئے تھے ۔ حضر ت نے فرمایا کہ مدارسِ دینیہ کے فارغ التحصیل علماء قرأ و حفاظ رسول اﷲ ﷺ کے نائب ہیں ، اسلئے وہ اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام د یتے ہوئے احکامات خداونری اور شریعت محمدیؐ پر چلنے کا درس دیں ، اﷲ تعالیٰ کے حکم بتانا صحیح اور غلط کی وضاحت کرنا یہ پیشانی جو اپنے مقصد سے ہٹ چکی تھی اسکو اﷲ کے د ربار میں جھکانا یہی مقصد آپﷺ کا تھا ۔ نبئ کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر نصیحت کی کہ وہ گمراہی میں نہ پڑتے ہوئے قرآن مجید اور سنتِ رسول کو مضبوطی سے تھامے رکھیں ، امیر شریعت نے کہا کہ کتاب اﷲ وسنت رسولﷺ کو حاصل کرنیوالے بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں، دنیا کی دولت اسکے آگے کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ انہو ں نے کہا کہ مدرسہ عربیہ دینیہ میں کام کر رہے احباب قرآنِ مجید و احادیث شریفہ کو سمجھانے کیلئے پوری زندگی وقف کر دیتے ہیں ۔ تاکہ قرآنِ پاک کو صحیح سمجھیں اور ملت اورانسانیت کی صحیح رہنمائی کر سکیں ۔ حضرت نے فرمایا کہ علماء قرأ و حفاظ جنہوں نے حضور ﷺ کی چھوڑی ہوئی عظیم الشان امانت کو جس کو تھامے رکھنے کی حضور اکرمﷺ نے ہدایت دی اس کو تھامے ہوئے ہیں ، اس پر انہیں ہمیشہ اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں شکر بجا لانا چاہئے ۔ اس موقع پر امیر شریعت نے فارغ طلباء کو نصیحت کی کہ وہ اپنے مشق ہمیشہ جاری رکھیں ، اس سے غفلت او ربے توجہی ہرگز نہ کریں ۔ اپنے سیکھے ہوئے علم کو دوسروں تک وسیع کرتے ہوئے رہنمائی کرتے رہیں ۔ اس موقع پر امیر شریعت نے مدرسہ کے بانی و مہتمم مولانا سید عبد الرحیم سعید رشادی کی خدمات کو کافی سراہا اور انہیں مبارکباد پیش کی او رہمیشہ مدرسہ کے ساتھ اپنے لگاؤ کا بھی یقین دلایا ، قبل ازیں جامعہ نور الہدیٰ نلور آندھرا پردیش کے بانی و مہتمم مولانا مفتی عبدالوہاب رشادی ، ڈاکٹر امجد حسین حافظ کرناٹکی شکاری پورشیموگہ سمیت دیگر علمائے کرام نے بھی خطاب کیا ۔ امیر شریعت کو ’’ اشرف الملک ‘‘ کا خطاب داراعلوم سعیدیہ کے بانی و مہتمم مولانا سید عبدالرحیم سعید رشادی نے خیر مقدمی کلمات پیش کرتے ہوئے حکیم الملت امیر شریعت، مفتی محمد اشرف علی باقوی کو ’’ اشرف الملک‘‘ کے لقب سے نوازا او رانہیں سپاس نامہ بھی پیش کیا ۔ مفتی صاحب نے اسے قبول کرتے ہوئے بانئ مہتمم کا شکریہ ادا کیا ، فارغین میں تین علمائے کرام ، 7؍ حفاظ کرام اور 3؍ قرأ کرام شامل ہیں ، انہیں مفتی اشرف علی کے ہاتھوں دستار بندی کے بعد سند پیش کی گئی ۔ آخر میں امیر شریت کی دعا پر جلسہ اختتام کو پہنچا ، اس جلسہ کا آغاز قاری شعیب رشادی کی قرأت اور عبدالرحیم کی نعتِ شریف سے ہوا ۔ عربی زبان میں تقریر سعد اﷲ جماعت پنجم او راردو میں شکیب خان ، جماعت چہارم نے کی ، مقامی ایم ایل اے اکھنڈ سرینیواس کی آمد پر استقبال او رمدارس عربیہ کے متعلق استاذِ مدرسہ مولانا منور حسین رشادی نے کنڑا زبان میں تقریر کی ، او ربتایا کہ مدارس عربیہ کس کام میں لگے ہوئے ہیں ۔ تمام آئے معزز علماء و عمائدین کا مہتمم صاحب نے خیر مقدم کیا ، مولانا منور حسین رشادی نے نظامت کی ، مختلف علاقوں سے مدارس کے ذمہ داران ، علمائے کرام اور دانشور حضرات بھی شریک رہے ۔