رویش کمار نے جموں و کشمیر پر ہندوستان کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر نے بھی دیگر ریاستوں کی طرح ہندوستان کے ساتھ دستاویز الحاق پر دستخط کئے تھے۔ پاکستان نے حملہ کرکے جمو ں کشمیر کے ایک حصے پر قبضہ کرلیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جموں و کشمیرمیں حالیہ دنوں میں جو پیش رفت ہوئی ہے وہ پوری طرح ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے اور اس میں کسی تیسرے ملک کا کوئی رول نہیں ہے۔اسے بین الاقوامی برادری اور اقو ام متحدہ نے بھی تسلیم کیا ہے۔انہوں نے کہا ”ہم ایک بار پھر ترکی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس موضوع پر کوئی بیان دینے سے پہلے زمینی صورت حال کو پوری طرح سے سمجھے۔“
ملائشیا کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ملائشیاکے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں اور حالیہ دونوں میں یہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ اس لئے ہمیں وزیر اعظم مآثر محمد کے تبصروں پر نہایت حیرت ہوئی ہے اور افسوس بھی ہوا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ بیانات حقائق پرمبنی نہیں ہیں اورحقائق کے متعلق وزیراعظم نریندرمودی‘ وزیرخارجہ ایس جے شنکراورہم میں سے ہرایک سب کے سامنے وضاحت کرچکے ہیں۔
جموں وکشمیرکا مسئلہ:ترکی اورملائیشیا کوہمارے دوستانہ تعلقات کاخیال رکھنا چاہئے:ہندوستان
03:48PM Fri 4 Oct, 2019
ہندوستان نے جموں کشمیر کے متعلق ترکی اورملائشیا کے حالیہ بیانات پرسخت افسوس کااظہارکرتے ہوئے آج کہا کہ ہندوستان کے داخلی معاملات پر اس طرح کے تبصرے غیر ضروری ہیں اور انہیں دوست ملکوں کے بارے میں اس طرح کے بیانات سے گریز کرنا چاہئے۔وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے یہاں معمول کی پریس بریفنگ میں کہا کہ ترکی کے ساتھ ہندوستان کے دوستانہ تعلقات ہیں اور اس لئے ہمیں بہت افسوس ہے کہ 6 اگست کے بعد سے ترکی حکومت کی طرف سے بار بار بیانات آئے ہیں۔ ملائشیا سے بھی ہندوستان کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ ملائشیا حکومت کو بھی ہمارے دوستانہ تعلقات کا خیال رکھنا چاہئے اور ایسے بیانات سے بچنا چاہئے۔