ٹیچرٹریننگ سینٹرہاپوڑبرائے فضلائے مدارس وقت کی اہم ضرورت کو پوراکررہاہے؛محمدنجیب سنبھلی قاسمی

04:52AM Fri 15 Nov, 2013

ٹیچرٹریننگ سینٹرہاپوڑبرائے فضلائے مدارس وقت کی اہم ضرورت کو پوراکررہاہے؛محمدنجیب سنبھلی قاسمی بھٹکلیس نیوز / 15 نومبر، 13 ریاض / (پریس ریلیز) "ٹیچرٹریننگ سینٹر ہاپوڑ یوپی برائے فضلائے مدارس اسلامیہ تیزی سے ترقی کی جانب رواں دواں ہے ، اورموجودہ دورمیں وقت کی ایک اہم ضرورت کوپورا کر رہا ہے۔اس ادارہ کاقیام ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب کہ واقعتاً ملک وملت کوایسے بافیض اوربامقصد اداروں کی شدید ضرورت ہے ، اللہ جزائے خیرعطا فرمائے ادارہ کے بانی اورروح رواں جناب خالدسیف اللہ صاحب کوکہ انہوں نے وقت کی اس اہم ضرورت کوسمجھا اوراپنے رفقاء کار کے تعاون سے اس اہم سینٹرکی بنیاد ڈالی" ۔ ان خیالات کااظہارسعودی عرب میں مقیم ہندستان کے مشہورعالم دین مولانامحمدنجیب سنبھلی قاسمی نے مذکورہ سینٹرمیں اپنی حاضری کے دوران طلبہ واساتذہ سے بات چیت کے دوران کیا ۔ واضح رہے کہ گذشتہ دنوں جناب مولانامحمد نجیب سنبھلی قاسمی اپنے مختصرمدتی ہندستان میں قیام کے دوران سینٹرکے ذمہ داروں کی دعوت پرتشریف لے گئے تھے جہاں انہوںنے سینٹر کے طلبہ واساتذہ سے ملاقات کرکے تعلیمی اور انتظامی صورت حال کاجائزہ لیا۔ مولانا محمد نجیب سنبھلی قاسمی نے سینٹرکے بانی کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ جناب خالد سیف اللہ صاحب نے اپنی زندگی کے طویل تجربات سے یہ طے کیا کہ شہروں کے مقابلہ میں دیہی علاقوں میں تعلیمی ادارے کے قیام کی اشد ضرورت ہے مگر اسکول وکالج سے تعلیم یافتہ طبقہ دیہی علاقوں میں آسانی سے پڑھانے کے لئے تیار نہیں ہوتا، جبکہ مدارس اسلامیہ کے فضلاء جن میں قوم وملت کا جذبہ اور خلوص وافر مقدار میں ہوتا ہے اس خدمت کو صحیح طریقہ سے انجام دے سکتے ہیں ۔ چنانچہ جناب خالد سیف اللہ صاحب نے مدارس عربیہ کے فضلاء کو عصری علوم سے مزین کرنے کا عزم مصمم کرکے گزشتہ سال سے اس پر عمل در آمد شروع کردیا ہے۔ الحمد للہ سال گزشتہ متعدد طلبہ انگریزی، حساب اور سائنس کی تعلیم حاصل کرکے مختلف اداروں میں عصری علوم پڑھا رہے ہیں۔ ایک طالب علم اسی سینٹر میں انگریزی کے استاذ کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہے ہیں۔ غرضیکہ جس مقصد کو سامنے رکھ کر جناب خالد سیف اللہ صاحب نے یہ نیک قدم اٹھایا تھا اس میں کافی کامیابی مل رہی ہے۔ اللہ ان کی اور ان کے تمام معانین کی ہر ہر قدم پر مدد فرمائے۔ مولانا نے مزید فرمایاکہ تمام طلبہ بڑی محنت اور لگن سے انگریزی، حساب اور سائنس کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ طلبہ عصری تعلیم کے حصول کے باوجود اپنے اسلامی تشخص باقی رکھے ہوئے ہیں۔ طلبہ بھی سینٹر کی خدمات سے مطمئن نظر آئے۔ سینٹر میں بجلی کا نظم جنریٹر سے ہونے کی وجہ سے انٹرنیٹ کے استعمال میں دشواری آرہی ہے مگر جلدی ہی باقاعدہ بجلی کا نظم ہونے جارہا ہے۔ اس طرح طلبہ کو انٹرنیٹ کی بھی سہولت دستیاب ہوجائے گی تاکہ انگریزی وغیرہ کی تعلیم کے لئے نئی ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا جاسکے۔ مولانامحمدنجیب سنبھلی قاسمی نے آخرمیں کہاکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ المنائی ایسوسی ایشن ریاض جناب خالد سیف اللہ صاحب کی تائید کے لئے اس وقت سے تیار ہے جب انہوں نے 2011 میں ریاض شہر کا دورہ کیا تھا اور ایسوسی ایشن نے ان کے استقبال میں ایک تقریب منعقد کرکے اپنے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ریاض میں مقیم جامعی برادی اپنے استاذ محترم کی تحریک کو ہر ممکن تعاون پیش کرے گی ۔ چنانچہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے موجودہ صدر انجینئر خورشید انور صاحب نے بھی اپنی مدت صدارت 2012 اور 2013 میں اس سینٹر کی ہمیشہ سرپرستی فرمائی اور ان شاء اللہ آگے بھی وہ اپنا تعاون پیش فرماتے رہیں گے۔ جناب خالد سیف اللہ صاحب کی زیر نگرانی دیہی علاقوں خاص کر مغربی یوپی میں متعدد اسکول وکالج چل رہے ہیں۔یادرہے کہ مولانا محمد نجیب قاسمی جامعہ ملیہ اسلامیہ المنائی ایسوسی ایشن ریاض کے جوائنٹ سکریٹری رہ چکے ہیں۔اب تک ان کی تقریباً چھ کتابیں شائع ہوکرعوام وخواص میں مقبولیت حاصل کرچکی ہیں۔ ان کی ویب سائٹ(www.najeebqasmi.com) کوبھی لوگوں نے خوب سراہا ہے ۔ teachers-training-happr-1 teachers-training-happr-2