جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں مدارس، اسکول اور کالجز کے مابین کل جنوبی ہند مسابقہ کا انعقاد

03:20PM Wed 30 Jan, 2019

بھٹکل: 30 جنوری،2019 (بھٹکلیس نیوز بیورو) جامعہ اسلامیہ بھٹکل کی ثقافتی تنظیم اللجنۃ العربیہ کی طرف سے ایمانی و دعوتی نقطہ نظر سے منعقد کیے گیے کل جنوبی ہند مسابقہ بین المدارس، اسکولزو کالجز کا افتتاح آج صبح 10:00 بجے جامعہ اسلامیہ کے صحن میں ہوا۔ مشرف اللجنۃ العربیۃ استاد جامعہ مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی نے فرمایا کہ ’’مدرسہ کا مقصد ملت کے لیے ایسے علماء، فقہاء، دانشور اور قائدین کو پیدا کرنا ہے  کہ جن کے ذریعہ ملت کو صحیح رہبر مل جائیں۔ مولانا نے جلسہ کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ آج میڈیا کے ذریعہ لوگوں کی فکروں اور عقلوں پر حملے کیے جارہے ہیں، عوام میں اختلافی مسائل کو چھیڑ کر دین کے سلسلہ میں شکوک و شبہات پیدا کیے جارہے ہیں۔ مولانا نے آگے کہا کہ ان  چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور زمانے کی آنکھ سے آنکھ ملاکر گفتگو کرنے کی صلاحیتوں کو پیدا کرنے کے لیے لجنہ کی طرف سے مختلف ثقافتی پروگرام منعقد ہوتے ہیں جس کی ایک کڑی آج کا یہ جلسہ ہے، تاکہ طلبہ کے اندر خود اعتمادی اور عملی میدان میں جمنے اور ڈٹے رہنے کی صفت پیدا ہوجائے۔ مہتمم جامعہ مولانا مقبول احمد صاحب کوبٹے ندوی نے اس جلسہ کے انعقاد پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ مولانا نے مسابقہ کے تعلق سے کہا کہ اس طرح کے مسابقات ایک ضمنی عنوان ہیں، یہ حقیقت میں اداروں کو مل بیٹھ کر سوچنے کا موقع ہے ۔ مولانا نے اداروں کے ذمہ داروں کے سامنے بہت سی باتیں رکھیں اور پوچھا کہ امت جن امیدوں اور مقاصد کے تحت ہمارے ساتھ تعاون کا معاملہ کررہی ہے کیا ہم ان مدارس کے ذریعہ امت کو اس اعتبار سے فائدہ پہنچا رہے ہیں؟ کیا ہمارے طلبہ امت کی صحیح قیادت کررہے ہیں؟ امت میں دین کی بے شعوری بے راہ روی پیدا ہورہی ہے کیا ہم اسے دور کرپارہے ہیں؟ الدین النصیحۃ اس حدیث کے تحت مہتمم  جامعہ  نے فرمایا کہ آج امت کا ایک ایک فرد، معاشرہ کا ایک ایک جوان و بوڑھا ہر شخص اخلاقی وایمانی اعتبار سے تار تار ہوتا جارہا ہے، ان کو جوڑنے کی ضرورت ہے، اللہ اور اس کے رسول کے حقوق کو ادا کرنے اور اسلاف کی قربانیوں اور محسنین کے احسانات کو یاد کرتے ہوئے نصیحت حاصل کرنے کی ضرورت ہے، نیز مدارس کو حقیقتاً دین کے استحکام کے ذرائع قرار دیا۔ آخر  میں لجنہ کے مشرفین، ذمہ داران اور دیگر طلبہ کی محنتوں کو سراہتے ہوئے دلی مبارکباد پیش کی،ا ور جامعہ کے بانیان ومحسنین کے احسانات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ صدر جامعہ مولانا اقبال صاحب ملا ندوی کی دعا پر افتتاحی نشست کا اختتام ہوا۔ اس کے بعد مسابقہ حفظ و ناظرہ، اسلامی ترانے اور مکالمے کی کچھ کڑیاں بھی پیش کی گئی۔قبل از ظہر یہ پہلی نشست برخواست ہوئی۔ افتتاحی تقریب کا آغاز سید نبیغ ابن سید نورالہدی برماور کی تلاوت سے ہوا۔ جس کے بعد نعت پاک پیش کی گئی۔ استقبالیہ  کلمات علی تبیان آرمار نے بہترین انداز میں پیش کیا۔اس کے بعد اللجنۃ العربیۃ کے جنرل سکریٹری محمد عمیر کولا نے لجنہ کا تعارف کرتے ہوئے اس کے قیام کا مقصد اور اس کے شعبہ جات کو عوام کے روبرو رکھا، اور دانش شنگیٹی، خضر حاجی فقیہ اور اظہار الحق بیہاٹی نے لجنہ کا خوبصورت ترانہ بھی پیش کیا۔