ایران: کرد میہن کا آڈیو ٹیپ منظر عام پر، سعودی سفارت خانہ پر حملہ حکومت سے گرین سگنل ملنے کے بعد کیا گیا
01:46PM Sun 18 Dec, 2016
تہران : رواں ماہ کے شروع میں تہران میں واقع سعودی عرب کے سفارت خانے پر حملے اور اس کو نذر آتش کرنے کے ملزم شخص نے اعتراف کیا ہے کہ تمام تر کارروائی ایرانی حکومت اور قیادت کی طرف سے گرین سگنل ملنے کے بعد کی گئی ۔ ایران میں اپوزیشن تحریک گرین موومنٹ کے نزدیکی ذرائع کی جانب سے جاری ایک آڈیو ٹیپ میں حملے کا اہم ملزم حسن کرد میہن باسیج اور پاسداران انقلاب کی ملیشیاؤں کے ارکان کو سعودی سفارت خانے کو آگ لگانے اور وہاں موجود تمام دستاویزات کو قبضے میں لینے کی ہدایت دے رہا ہے۔
بات چیت میں میہن اپنے کارندوں سے کہتے ہوئے سنائی پڑ رہا ہے کہ یہ حملہ حکومت اور انتظامیہ کے گرین سگنل کے بعد کیا گیا ، اسی وجہ سے داخلہ سیکورٹی کی فورس نے سفارت خانے پر دھاوا بول دینے کا موقع دیا اور وہ حرکت میں نہیں آئی۔
ایک نیوز ویب سائٹ آمد نیوز کے چینل پرٹیلی گرام ایپلی کیشن کے ذریعے نشر کی جانے والی اس آڈیو ٹیپ سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ کرد میہن نور معرفت نامی ادارے کے ارکان سے مخاطب ہے۔
خیال رہے کہ ایران نے سفارت خانے پر حملے کے دو ہفتے بعد حسن كرد میہن کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا ۔تاہم دو روز بعد ہی اس کی رہائی کا اعلان بھی کردیا گیا تھا۔ تاہم کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ میہن کی حراست یا گرفتاری سرے سے ہوئی نہیں تھی ۔