ملک کے دستور کے برعکس شریعت میں مداخلت قابل قبول نہیں: مولانا ارشد مدنی
03:15PM Sat 26 Nov, 2016
پرتاپ گڑھ ۔ جمیعتہ علما ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ملک کے سیکولر دستور کے بر عکس شریعت میں مداخلت قابل قبول نہیں ہےجب کہ دستور میں سبھی مذاہب کو پوری آزادی حاصل ہے ۔ اتر پردیش میں پرتاپ گڑھ ضلع کے دیلہو پور بازار کے نزدیک بھکنا پور پڑاو پر منعقد قومی یکجہتی کانفرنس کو بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔ سید مدنی نے کہا کہ ملک میں رہنے والے سبھی ہندوستانی ہیں اس کے بعد مسلمان اور ہندو ہیں ۔ پرسنل لاء میں مداخلت کرکے ہم کو لب کشائی کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ، جب سبھی یہ مانتے ہیں کہ سب کا مالک ایک ہے تو فرقہ کے نام پر جھگڑے کیوں ؟ انہوں نے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کی ایک اعلیٰ سیاسی پارٹی اپنے سیاسی فائدہ کیلئے لوگوں کو لڑا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے ،جب کہ ہم ملک میں سکون چاہتے ہیں ۔ اس مٹّی سے محبت ہے ۔یہ ملک گنگا جمنی تہذیب کا مرکز ہے اسکو کوئی متاثر کرنے کی کوشش کرے گا تو ملک کی عوام خاموش نہیں رہے گی ۔
آچاریہ پرمود کرشنن کالکی پیٹھ نے بطور مہمان اعزازی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محبت کا رشتہ جذبات سے ہے دماغ سے نہیں۔ آج ملک کی ایک سیاسی پارٹی محبت کے نام پر نفرت کی کھیتیکو ترجیح دے رہی ہے ۔ شہید بھگت سنگھ اور اشفاق اللہ نے ہندو مسلمان کیلئے شہادت پیش نہیں کی بلکہ ہندوستان کیلئے شہادت پیش کی تھی۔ آج ہندوتو کے نام پر دلوں میں دیوار کھڑی کی جا رہی ہے جو ملک کی گنگا جمنی تہذیب کیلئے بہت خطرناک ہے ۔بھارت ہندو مسلمانوں کا نہیں بلکہ سوا کروڑ ہندوستانیوں کا ہے۔ انہوں نے نوٹ کی منسوخی سے متعلق مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نوٹ تبدیل نہیں بلکہ دل تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔