ہندوستان میں ایمان واسلام صوفیاء و مشائخ کے ذریعہ پروان چڑھا:مولانا محمود مدنی
03:43PM Tue 18 Apr, 2017
مسلکی منافرت ختم کرنے پرزور،احمدآباد میں عظمت اولیا ء کانفرنس سے مختلف مسالک کے نمائندوں کا اہم خطاب
احمدآباد:(بھٹکلیس نیوز)
جمعےۃ علماء ہند کے قومی قائد وجنرل سیکریٹری مولانامحموداسعد مدنی نے ملک کے کو نے کونے میں مسلمانوں کے دوبڑے گروپ بریلوی ودیوبندی کے ایک اسٹیج پر جمع ہوکر عوام کوملی اتحاد کا پیغام پہنچانے کی کوششوں کی سراہنا کرتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کے تمام مسالک کے نمائندے آج احمدآبادکے اس اسٹیج پر جمع ہیں کل انشاء اللہ عوام میں بھی رہیں گے۔مولانامدنی نے کہاکہ الحمدللہ اس کی اچھی شروعات اجمیر شریف سے ہوئی ہے تو اسکو باقی رکھنا ہے۔ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ ایک دوسرے کی مخالفت کے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ، اپنی فوقیت کو نہیں جتا سکتے لیکن میرا یہ کہنا اور ماننا ہے کہ اس مخالفت کو محدودکردیا جائے اور اسے اختلاف پر ہی روک دیا جائے مخالفت نہ کی جائے۔ جمعےۃ علماء ہند کی ملک گیر تحریک کے تحت ۱۶؍ اپریل بروز اتوار صوبہ گجرات کی راجدھانی احمد آباد شہر کے ٹاؤن ہال میں جمعےۃ علماء ضلع احمدآباد کی زیر نگرانی عظمت اولیاء کانفرنس کاانعقادکیاگیااس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی مولانا سید محمودمدنی نے اپنے مفصل وبسیط خطاب میں کہاکہ اختلافات قوموں کی زندگی کی علامت ہیں اور علماء امت کا اختلاف رحمت ہے ۔آپ نے ہندی زبان کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ مت بھید ہونا برا نہیں ہے من بھید ہونا برا ہے۔یہ بہت مبارک موقع ہے کہ سارے اختلافات بلکہ مخالفتوں کے باوجودکچھ لوگ بلانے کے لئے تیار ہوئے اور کچھ لو گ آنے کے لئے تیار ہو گئے۔جو لوگ اللہ تبارک و تعالٰی سے ڈرتے ہیں وہ کسی اور سے کسی صورت میں نہیں ڈرتے ۔احادیث مبارکہ اور سیرت رسول اکرمﷺ کی روشنی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہماری گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ ہمار ارویہ بدل جائے آج ملک کے حالات بہت خراب ہیں اورحالات خراب کرنے والے ملک کی آبادی میں پانچ فی صد سے زیادہ نہیں ہیں ایسے لوگ اپنے آپ کو بڑھانے میں زبردست طاقت و قوت سے لگے ہیں لیکن ایسے لوگوں کو کمزور کرنے کے لئے ہماری طرف سے کوئی لائحہ عمل اور محنت نہیں ہے ۔ایسے لوگوں کو غصے میں آنے سے روکنے کے لئے ہمیں اپنے غصے کو روکنا ہوگا۔موجودہ حالات کے ضمن میں مولانا مدنی نے کہا کہ آج ہماری قوم کو ایک خاص قسم کی نفسیاتی بیماری اور احساس مظلومیت میں مبتلاء کرنے کی کوشس کی جارہی ہے۔ صبر ، برداشت وتحمل طاقت کی علامت ہے کمز و ری نہیں ہے۔آج ہم اپنے اکابر اولیاء اللہ بزرگان دین حتی کہ حضورپاکﷺ کے طریقوں اور واقعات کو سن کر خوش ہولیتے ہیں لیکن اپنی زندگیوں سے اسے چھوڑ رکھا ہے اور یہ سمجھ لیا ہے کہ یہ ساری چیزیں صرف سنانے کے لئے ہیں۔مولانا محمود مدنی نے احمد آبا د اور پورے ملک کو ایک مقدس سرزمین بتاتے ہوئے کہا کہ پورا ملک ہندوستان ہمارا میدان عمل ہے۔ہمارے اولیاء کرام ؒ و مشائخ عظام ؒ جس راستے سے گذر ے ان راستوں میں توحید وسنت کا نور و خوشبوپھیل گئی۔ہندوستان میں ہمارے پاس ایمان واسلام بادشاہوں کے ذریعہ نہیں آیا بلکہ ہمارے انہی بزرگوں اور اولیاء ؒ وصوفیاء ؒ کے ذریعہ آیا ایسے لوگ کہ جن کے چہروں کو دیکھ کر اور ان سے معاملات کر کے لوگ ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے تھے۔ ہندوستان کے کیرلا میں ملک کی پہلی مسجد کسی بادشاہ نے نہیں بنائی تھی۔یہ اولیاء کرام ؒ انبیاء کرام علیہم السلام کے سچے جانشین تھے اسلام و ایمان کی روشنی انہی کے ذریعے سے پہنچی ہے۔قوم کو خطاب کرتے ہوئے جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سیکریٹری نے کہاکہ کسی سے دبنے کی ہر گز ضرورت نہیں ہے مایوس نہ ہوں اپنے حوصلوں کو بلند رکھیں۔ حکومتوں کو مخاطب کرتے ہوئے تین طلاق کے موضو ع پر خواتین کی ہمدردی کے نام پر قانون بنانے والوں کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ یہ قانون بناتے رہیں ہم مسکرا کر اس قانون کو توڑیں گے اسی کے ساتھ مولانا مدنی نے شریعت کے قانون کا مذاق اڑانے والے اپنے سماج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے سماج میں ایسے لوگوں کے خلاف اپنا قانون بنانے کی ضرورت ہے اور میری سمجھ سے ایسے لوگوں کا سماجی بائیکاٹ کیا جانا چاہئے جو طلاق اور شریعت اسلامیہ کے قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں۔
مولانا مدنی سے قبل مولانا سلطان احمد قادری چشتی( مہتمم مدرسۃ البنات ٹوکرشاہ کی پول )نے اپنی تفصیلی تقریر میں سلسلہ چشتیہ میں ڈھول تاشہ وباجہ بجانے اور قوا لی کو جائز قرار دینے کے سلسلے کو اولیاء کرامؒ کو تکلیف پہنچانے والا عمل قرار دیا۔مقامی ایم ایل اے جناب غیاث الدین نے اپنی تقریر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ضرو رت کو اجاگر کیا ساتھ ہی ملی اتحاد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں جمعےۃ علماء احمدآباد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے مسلمانوں کے ہر مسلک کے پیشواؤں کو ایک اسٹیج پر جمع کردیا انہوں نے مزیدکہا کہ ہندو سماج میں بھی اکثریت سیکولر لوگوں کی ہے۔ سیاست کے لئے ہند و مسلمانوں کو لڑانے والے چند فی صد لوگ ہیں جو ہندو مسلم ایکتا کو بھنگ کرنا چاہتے ہیں اسی طرح سے مسلم سماج میں بھی چند ناعاقبت اندیش لوگ ہیں جو مسلکی ومذہبی اختلافات کو ہوا دے کر ہمارے اس طرح کے اتحاد کو بھسم کرنے کی کوشس کرتے ہیں محترم غیاث الدین نے مولانا سید محمود مدنی کی ان کوشسوں کو زبردست خراج تحسین پیش کر تے ہوئے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔سلطان الاولیا کے درباراجمیر شریف سے تشریف لائے مولانا سرج الدین معینی اجمیری نے اپنی گفتگو میں اولیاء کرام ؒ خصوصا حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ ، حضرت نظام الدین اولیا ؒ ء،حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ ، حضرت بابا فرید گنج شکر ؒ وغیرہ کے واقعات کی روشنی میں بتایا کہ صوفیاء کرامؒ و اولیاء عظام ؒ نے اپنے اخلاق اور مہمان نوازی یعنی اپنے دستر خوانو ں کو وسیع کر کے لو گوں میں اپنے داعیانہ کردار کو پیش کیا تھا۔ان کی خدمات وتعلیمات اور اخلاق حسنہ سے دوری ہماری پستی کے اسباب میں سے ایک ہے اور ہندو مسلم ایکتا کا بڑا ثبوت ہمارے اولیاء کرام کی زندگیاں ہیں۔مفتی محمدارشد قریشی(جنرل سیکریٹری احمد آباد ضلع جمعےۃ علماء) کی کنوینر شپ میں یہ عظمت اولیا کانفرنس انعقاد پذیر ہوئی آپ ہی کی نظامت میں جمعےۃ علماء ہند کے مرکزی سیکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی پرتابگڈھی نے ابتداء کانفرنس میں حضرت ملک المشائخ گنج بخش شیخ احمد کٹھوؒ ، فیوض سبحانی حضرت شاہ عالم سید محمد ؒ ، حضرت شاہ عبدالصمد خدانما قادریؒ ،حضرت عبدالوہاب المعروف سلطان جیو قادریؒ ،حضر ت محمد حسن چشتی ؒ ،حضرت برہان الدین قطب عا لم سید عبداللہ ؒ ، شیخ الاقطاب حضرت سید عثمان شمع برہانیؒ ، حضرت سید احمد شاہ وجیہ الدین ؒ ، حضرت سید محمد الملقب پیر محمد شاہ ؒ ،حضرت سلطان احمد شاہ بادشاہ ؒ ،وغیرہ کے کمالا ت کا ذکر کرتے ہوئے اغراض و مقاصد بیان کیا۔اجلاس کے شروع میں جمعےۃ علماء ہند کے جھنڈے کی پرچم کشائی مولانا علامہ محمد رفیق مظاہری (صدر جمعےۃ علماء صوبہ گجرات )کے ہاتھوں عمل میں آئی اس موقع پر جھنڈے کا ترانہ مفتی شاہد نواز نے پڑھا۔مفتی رضوان قریشی کی تلاوت کلا م پاک سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔مولانا فیاض بارہ بنکوی نے نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا افتتاحی کلمات پروفیسر نثار احمد انصاری جنرل سیکریٹری جمعےۃ علماء صوبہ گجرات نے فرمائے۔مولانا اقبال بوکڑا(صدر جمعےۃ علماء گودھرا)نے گجراتی زبان میں تقریر کی۔کانفرنس کے صدر حاجی محمد یونس صابو والا(صدر جمعےۃ علماء ضلع احمد آباد) نے خطبہ صدارت ، مفتی اسجد قاسمی(صدر شہر احمدآباد جمعےۃ علماء)نے خطبہ استقبالیہ پیش کیادیگر خطاب فرمانے والے اہم افراد میں مولانا عبدالقدوس ندوی پالنپوری(نائب صدر جمعےۃ علماء صوبہ گجرات ) جناب بدرالدین سابق چئیرمن،مولانا اختر رضوی شیاء عالم وٹوا، جنا ب شکیل احمد راجپوت(جماعت اسلامی گجرات)وغیرہ شامل ہیں۔کانفر نس میں علاقہ پٹن کے جنرل سیکریٹری محمد عتیق الرحمن قریشی، محمد حنیف عرب راجو بھائی (شہری جنرل سیکر یٹر ی) حاجی بلال مٹھائی والے،دولت خان (مہسانہ)مولانا علاء الدین(داتا)احمد علی بارہ بنکوی،حاجی اسماعیل پین والے ڈھولکہ،حاجی اسماعیل کنجری،مولانا ابوالحسن پالنپوری،حافظ بشیر احمد پرتابگڈھی،مولانا شفیق احمد القاسمی مالیگانوی(آرگنائزرس جمعےۃ علماء ہند)ڈاکٹر محمد طلحہ دوکا،محمد یونس دوکا(ممبئی)فہیم خان ، فیصل خان، قریشی اسلم بھائی،شعیب بھاگلیہ،وغیرہ سمیت کثیر تعداد میں عوام وخواص شریک تھے۔علامہ محمدرفیق مظاہری کی پرسوز دعا پر اجلاس کا اختتام دوپہر ایک بجے عمل میں آیا۔