ڈی این اے کے ذریعے کینسر کے خطرے کی نشاندہی
04:31PM Sun 23 Feb, 2014
بھٹکلیس نیوز،23فروری14
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ڈی این اے کے ٹیسٹ کے ذریعے مردوں کو پروسٹیٹ کینسر لاحق سکتا ہونے کے شدید خطرے کے بارے میں پتہ لگایا جا ہے۔لندن میں انسٹیٹیوٹ آف کینسر ریسرچ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پروسٹیٹ کینسر کا پتہ لگانے کے لیے جلد ہی مردوں کے بھی جینیاتی ٹیسٹ کیے جائیں گے جس طرح خواتین میں بریسٹ کینسر معلوم کرنے کے کیے جاتے ہیں محقیقین نے تحقیق کے لیے 191 پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں اور ان کے کم از کم تین قریبی رشتہ داروں کے خون کے نمونے لیے۔
ان نمونوں کو بشمول بی آر سی اے جینز، تبدیل شدہ جین(میوٹینٹ) کے لیے ٹیسٹ کیا گیا۔پہلے کیے گئے تحقیق کے مطابق بی آر سی اے جنز چھاتی اور بیضہ دانی کے سرطان سے جڑا ہوا ہے۔
یہ تازہ تحقیق برٹش جرنل آف کینسر میں شائع کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سات فیصد مردوں میں 14 خطرناک تبدیل شدہ جینز(میوٹینٹ) میں سے ایک پایا گیا۔
محقیقین کےمطابق یہ سات فیصد وہ افراد تھے جنھیں خطرناک پروسٹیٹ کینسر لاحق تھا اور جو ان کے بدن کے دیگر حصوں تک پھیل رہا تھا۔
پروسٹیٹ کینسر دنیا کے اکثر ممالک میں مردوں میں عام ہے۔ صرف برطانیہ میں سالانہ 40 ہزار مردوں میں اس مرض کی نشاندہی کی جاتی ہے۔
خیراتی ادارے پروسٹیٹ کینسر یو کے میں ریسرچ ڈائریکٹر ڈاکٹر آئن فریم نے کہا کہ’ہمیں جلد ہی اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کونسے مردوں کو پروسٹیٹ کینسر لاحق ہونے کا خطرہ ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جنیاتی ٹیسٹ سے کینسر کے علاج کے طریقۂ کار میں انقلابی تبدیلی آ جائے گی۔‘
۔