مہاراشٹر، گوا اور گجرات کے ساحلی علاقوں میں ہائی الرٹ کے بعد پٹھان کوٹ کے سول اسپتال کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے اسپتال انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ایمرجنسی وارڈ کو بھی خالی کرایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں، نرسوں اور اسپتال کے عملے کی بھی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
ادھر، گجرات میں ماہی گیروں سے کہا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سرحد کے قریب نہ جائیں۔ پنجاب میں ہسینی والا بارڈر پر کی جانے والی بيٹنگ ریٹریٹ منسوخ کر دی گئی ہے۔ فیروزپور کے ضلع کلکٹر ڈی پی ایس كھربندا نے کہا ہے ابھی یہاں پر حالات معمول ہیں اور ہم لوگوں نے احتیاطاً سرحد سے لگے 10 کلومیٹر تک کے اسکولوں کو بند کرا دیا ہے۔
پنجاب حکومت نے سرحدی اضلاع پھجلكا، فیروزپور، ترنتارن، امرتسر، گرداس پور اور پٹھان کوٹ اضلاع کو سرحد سے ہٹائے گئے لوگوں کو بسانے کے لئے کیمپ بنانے کیلئے ایک ایک کروڑ روپے جاری کئے ہیں۔
جموں کشمیر کے مینڈھر کے ایس ڈی ایم ٹھاکر شیر سنگھ نے کہا کہ ہم نے 21 گاووں کی نشاندہی کی ہے اور ایڈوائزری جاری کی ہے کہ اگر لوگوں کو گھر خالی کرنے پڑیں تو ہم نے اسکولوں میں ان کا انتظام کیا ہوا ہے۔
پاکستان کی جوابی کارروائی کے لئے ہندوستان تیار، سرحدی گاؤں خالی کرائے گئے
03:52PM Thu 29 Sep, 2016
نئی دہلی۔ اڑی حملے کا بدلہ لینے کے لئے پاک مقبوضہ کشمیر میں گھس کر دہشت گرد کیمپوں کو تباہ کرنے کی ہندوستانی فوج کی کارروائی کے بعد اب پاکستان کی جانب سے ممکنہ جوابی حملے سے نمٹنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اسی کے تحت سرحدی ریاستوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
وزارت داخلہ نے کشمیر، پنجاب اور گجرات میں سرحد سے ملحقہ دیہات کو خالی کرانے کی ایڈوائزری ریاستی حکومتوں کو جاری کی ہے۔ ریاستی حکومتوں نے بھی اس پر فورا کارروائی کرتے ہوئے لوگوں کو ان علاقوں سے ہٹانا شروع کر دیا ہے۔