میسور کے تاریخی میلاد باغ میں برما کے مسلمانوں پر جاری ظلم اور قتل کے خلاف مذمتی اجلاس

04:05PM Thu 14 Sep, 2017

  سنئر صحافی گوری لنکیش کے قتل کے خلاف مذمتی اجلاس میسور (بھٹکلیس نیوز)) کل بروز چہارشنبہ بعد نماز مغرب میسور کے تاریخی میلاد باغ میں علماء شہریان میسور کے زیر اہتمام برما میں جاری ظلم وستم اور گوری لنکیش قتل کا مذمتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ جلسہ کی صدارت حضرت مولانا شیخ الحدیث مفتی سید تاج الدین صاحب عمل میں لایاگیا شریک اجلاس میں حضرت مولانا شبیر احمد صدر جمعیت العلماء میسور ،حضرت مولانا ایوب انصاری مہتمم مدرسہ الفلاح ، حضرت مولانا سلمان احمد نائب مہتمم صدیقیہ ،الحاج عبدالعزیز چاند سکریٹری صدیقیہ ،امیر مقامی جماعت اسلامی ہند ضلع میسور منور پاشاہ ،سجاد عباسی شعیہ ء عالم ، مولانا شاہ ولی اللہ اہل حدیث ،سابق مئیر ایوب خان ، ایم آئی ایم ضلع صدر نبیل محمد خان ،ایم آئی ایم کنوینر رفعت اللہ خان ، ایس ڈی پی آئی ریاستی سکریٹری عبدالمجید ، پاپولر فر نٹ آف انڈیا میسور صدر امین سیٹھ ،ایم ایف کلیم ،مولانا کلیم الرحمن ، مولانا عبدالمجید ضیائی و دیگر علماء و عمائیدین شریک رہے اجلاس کا آغاز قاری فیاض احمد مہتم مدرسہ عثمانیہ کی قرآت اور صہیب احمد خان کی نعت پاک اور مدرسہ ابی ابن کعب کے طالب علم سید شاہ پرویز عرفات کی برما کے تعلق سے پیش کردہ خصوصی نظم سے کیاگیا ،نظامت حضرت مولانا ظہیر احمد مدرس صدیقیہ نے کی مولانا سلمان احمد ،مولانا شاہ ولی اللہ اور شعیہ ء عالم دین سجاد عباسی ،جماعت سلامی ہند امیر مقامی منور پاشاہ نے اپنی اپنی باری میں خطاب فر ماتے ہوئے موجودہ مسلمانان عالم کے اہم مسائل اور اس ضمن میں ہورہے ظلم ستم خاص طور سے رو ہنگیا کے مسلمانوں کے تعلق سے درد مندانہ انداز میں اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار فر مایا ،مولانا ایوب انصاری نے کہا کہ برما رو ہنگیا کے مسلم قوم کو اسرائیل کی ہشت پناہی اور منظم سازش کی بنا پر خون ناحق کا کھیل کھیلا جارہا ہے رو ہنگیا مسلمان ،مسلمان ہونے کی وجہ سے شہادت کاجام نو ش فر مارہے ہیں ان تمام شہیدوں کو سلام پیش ہے جو جام شہادت تو نوش فر مارہے ہیں مگر کسی ایک مسلمان کی جانب سے ان ظالموں کے ظلم کی وجہ سے ترک اسلام کئے جانے کی الحمداللہ خبر نہیں آئی روہنگیا مسلمان لٹ رہے ہیں جانی و مالی نقصان برداشت کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ انکی اس قربانی کو ہرگز رائیگاں نہیں فر مائے گا اسی طرح ہم تمام مسلمانان عالم کو اس بات کو بتانا ہے کہ ہم وقت پڑنے پر جان تو دے سکتے ہیں مگر دشمنان اسلام کے آگے اپنے سر نہیں جھکائیں گے مزید فر مایا کہ کہاں گئے وہ انسانیت کی نام نہاد تنظیمیں جو کتے اور بندر کی موت پر ہلا مچاتے تھے کیا آج انہیں اس ظلم کے تعلق سے کچھ نہیں کہنا ہے ؟کہاں ہے اقوام متحدہ یہ ظالم ان مسلمانوں کو دہشت گرد کہتے ہیں کیا ہم نے سو شیل میڈیا کے توسط سے موصول درد نام ویڈیوس میں کہیں کسی مسلمان کے ہاتھ میں مہلک ہتھیار دیکھا ہے ؟مسلم ممالک کی خاموشی اور بے حسی کے تعلق سے بھی افسوس کا اظہار کیا ،نور محمد مرچنٹ نے کنڑی زبان میں تقریر کی ،عبدالعزیز چاند نے کہا کہ روہنگیا کے حالات پر صرف افسو س کرنے کی بجائے ہم تمام کو ان حالات کے متعلق اپنے اپنے طور پر بیدار ہوکر اپنے بچوں کی دینی معا ملات پر توجہ کی ضرورت ہے صرف ڈاکٹر یا اعلیٰ عہدہ تک پہنچانا ہمارا مقصد نہ ہو بلکہ ان میں دینی جذبہ کو لانا اشد ضرورت ہے ،مولانا شبیر احمد نے کہا کہ جمعیتہ العماء ہند کے روح رواں مولانا ارشد مدنی نے ان مسلمانوں کی حالت زار اور حال ہی گوری لنکیش کت قتل پر اپنی کڑی مذمت کا اظہار فر مایا ہے ،سابق مئیر ایوب خان نے کہا کہ موجودہ حالات ہم تمام مسلمانوں کے لئے ایک سبق سے ہر گز کم نہیں ہے مگر اللہ نے ہم مسلمانوں میں جو جذبہ عطا کیا ہے اور جس جوش و جذبہ سے آج یہاں سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہوکر برما اور گوری لنکیش جیسی صحافیہ کے قتل کی مذمت میں جمع ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ آج بھی ہم چاہیں تو ہمارے اتحاد سے ہر معرکہ سر کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہم ہمیشہ سے امن پسند رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ،ایم آیے ایم نبیل محمد خان نے کہا کہ حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ کی سر زمین سے تعلق رکھنے والے غیور مسلمانوں کی اس درجہ یہاں جمع ہونا ہی مذہب اسلام اور را ہنگیا جیسے مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف غم وغصہ کا بھر پور اظہار ہے آئے ہم اس اتحاد کے ساتھ ایسی آواز بلند کریں کہ کے سارے ملک میں اس پیغام کو عام کیا جا سکے ایسے موقع پر خاموش رہنا بزدلی کی علامت ہے جو ہم ہرگز بھی نہیں ہیں ،ایم ایف کلیم نے کہا کہ آج کا یہ اجلاس مجھے احتجاجی اجلاس کے ساتھ ساتھ تعزیتی اجلاس کے طور پر بھی نظر آرہا ہے کیونکہ سوشیل میڈیا سے ہم تک رو ہنگیا کے ویڈیوس کا آنا یونہی نہیں ہے بلکہ دشمنان اسلا م ہم مسلمانوں کو خائف کرنا چاہتے ہیں اے دشمنان اسلام سن لو ہم خائف نہیں ہوئے بلکہ ہمارے اندر مزید جوش پیدا ہو اہے جو کسی قیمت پر کم نہیں ہو سکتا ،عبدالمجید نے رو ہنگیا اور برما کی ایک مکمل تاریخ پیش کرتے ہوئے زور دیا کہ ہم تمام کو چاہئے کہ ایسے اجلاسوں میں اہم قراردار منظور کریں جن میں کوفی انان کی رپورٹ پر عمل پیرائی کی جائے ،روہنگیا مسلم قوم کو وہاں کی سٹی زن شپ دی جائے اسی طرح ہمارے ملک کو برما پر دباؤ ڈالتے ہوئے اس طر ح کے مزید قتل و عام کو فوری طور پر روکنے پر زور دیا جائے بعد ازاں ان تمام اہم قراردادوں کو میسور ڈپٹی کمشنر کے توسط سے حکومت کیو میمورنڈم پیش کئے جانے کا فیصلہ لیاگیا ،صدارتی خطاب فر ماتے ہوئے مولانا مفتی سید تاج الدین نے کہا کہ اس اجلاس میں جمع علماء و عمائیدن نے بہترین تاثرات کو پیش کیا ہر مسلمان کو اس جذبہ کے ساتھ رہنا فرض ہے ہماری بے حسی اور اختلافات کی وجہ سے ہم کیا دیکھ رہے ہیں یہ تمام پر واضح ہے یہ سب قرآن اور سنت سے دوری کا نتیجہ ہے آج اتحاد کو زبانی حد تک کافی نہیں ہے بلکہ عملی طور پر کر گذرنے کی ضرورت ہے اور الحمد اللہ آج یہاں شریک تمام مسلک کے علما ء سے اسکا بھر پور اظہار بھی ہورہا ہے جو بڑی ہی خوش آئیند بات ہے ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ نے فر مایا کہ مسلمان ایک ہی جسم کی مانند ہیں کہیں بھی دردہو سارے جسم میں تکلیف کا احساس ہونا لا زمی ہے ،حضرت مولانا شبیر احمد رشادی کی دعا پر اجلاس کا اختتام کیا گیا