اُردو کے مشہور شاعرظفرگورکھپوری کا جسدِ خاکی سپردِ لحد

10:55AM Thu 3 Aug, 2017

اتوار کو بعد نمازِ ظہر شعرو ادب کے ممتاز اور معاشرے کے سرکردہ اشخاص نے نم آنکھوں سے مٹی دی ممبئی 30جولائی(فرحان حنیف وارثی؍ایجنسی)  اُردو کے مشہور شاعر اور ترقی پسند تحریک  کی آخری  آخری کڑی ظفر گورکھپوری کے جسدِ خاکی کو آج بعد نمازِ ظہر اندھیری کےچار بنگلہ مسلم قبرستان میں سپردِ لحد کیا گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ  سنیچر۲۹جولائی کی  شب ۱۱بجے  طویل علالت کے بعد اپنی رہائش گاہ پر انھوں نے  آخری سانسیں لیں ۔ان کی عمر 83 سال تھی۔ انہیں خصوصی طورپر بچوں کے ادب کے لئے  بھی یاد رکھا جائے  گا۔مرحوم 1950 کے عشرے میں ترقی پسند تحریک سے  وابستہ  ہوئے۔ تدفیں کے موقع پر ادبی، سماجی اور صحافتی شعبوں سے منسلک متعدد اشخاص موجود تھےجن میں مفتی عزیز الرحمان فتح پوری، احمد کلیم فیض پوری،فاروق سید،سید ریاض رحیم،وقار قادری،عطاء الرحمان ،طارق ،حکیم شولاپوری،مصطفیٰ پنجابی ،ڈاکٹر شیخ عبداللہ،عرفان جعفری،سکندر مرزا،کلیم ضیا، میر ساجد علی قادری ،حامد اقبال صدیقی ،عبید اعظم اعظمی، ظہیر انصاری ،دیومنی پانڈے،افسر دکنی،شاہد لطیف ،مراق مرزا،ندیم صدیقی،مشیر انصاری  ندیم  فاضلی، شکیل احمد شکیل، تجمل حسین زاہد،رحیم سید اور میرصاحب حسن وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ پسماندگان میں اہلیہ کتاب النسا کے علاوہ تین بیٹے اعجاز، امتیاز اور خالد ہیں جبکہ ایک صاحبزادے جاویداوربیٹی کا چند سال قبل انتقال ہو چکا ہے۔ظفر گورکھپوری کا نام ظفرالدین اورتخلص ظفرتھا۔وہ   5  مئی 1935 کو ضلع گورکھپور یو پی کی تحصیل بانس گائوں کے ایک دیہات بیدولی بابو میں پیدا ہوئے۔  بچپن ہی میں وہ تلاش معاش میں بمبئی  آئے اور پھریہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ظفرگورکھپوری نے پہلے کچھ افسانے لکھے ،پھر شعر ، پہلا شعر غالباً 1949ء میں کہا تھااور پھر 1953 میں ترقی پسند تحریک میں شامل ہوگئے۔مرحوم ظفر گورکھپوری کاکہنا تھا کہ "فراق ،بنے بھائی ( سجاد ظہیر ) ،  علی سردار جعفری، کیفی اعظمی، کرشن چندر ، مہندر ناتھ، ظ انصاری، اور مجروح وغیرہ  کاساتھ ملا تو صلاحیتوں کو  جلاملی، لیکن بہت جلد یہ سمجھ میں آگیا کہ ادب کو کسی مخصوص نظریے کی تشہیر کا ذریعہ نہیں ہونا چاہئے اور نہ اسے ذات مختصر کے دائرے کا اسیر ہونا چاہئے۔ تب سے دونوں کے درمیان اپنی راہ نکالنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ شعر گوئی کی ابتدا نظم سے ہوئی تھی۔ دو دہائیوں سے کچھ زیادہ ہی عرصے تک نظمیں کہتا رہا۔ لیکن جانے کیوں ادھر چند برسوں سے غزل نے من موہ لیا ہے۔ " ظفرگورکھپوری ممبئی میونسپل کارپوریشن کے محکمۂ تعلیم میں معلم کی حیثیت سے خدمت انجام دیتے رہے اورتین دہائیوں کی ملازمت کے بعد یکم جولائی1993ء کو سبکدوش ہوئے اور اردوادب کی خدمت میں لگ گئے۔ ظفرگورکھپوری  نے کئی فلموں میں گیت بھی لکھے تھے جن میں 1972میں ریلیز ہونے والی فلم ’’پتلی بائی‘‘کی قوالی’’ایسے بے شرم عاشق ہیں یہ آج کے ‘‘کافی مشہور ہوئی تھی۔یہ قوالی اصلی یوسف آزاد اوررشیدہ خاتون نے گائی تھی۔اس کے بعدزمانے سے پوچھنا (1976)،نورالٰہی(1976)،آتش(1978)،شمع(1981)،بازیگر (1993) ،ظالم(1994)،خوددار(1994)،ہلچل(1995)،غنڈہ راج (1995) اورکھلونا(1996)نامی فلمیں ریلیز ہوئیں۔ظفرگورکھپوری  نے مہندی حسن ،منی بیگم ،پنکج ادھاس،ہریندرکھورانہ ،طلعت عزیز ،پیناز مسانی،اشوک کھوسلہ اورپامیلہ سنگھ وغیرہ کے لیے غزلیں لکھی تھیں۔ظفرگورکھپوری کی تصانیف میں تیشہ ،آرپار،زمین کے قریب ،وادیٔ سنگ،گوکھروکے پھول،چراغ چشم اورہلکی ٹھنڈی تازہ ہوا(شعری مجموعہ)،ناچ ری گڑیا(بچوں کی نظمیں)اورسچائیاں(بچوں کی کہانیاں)شامل ہیں۔ظفرگورکھپوری کوامتیاز میرکے علاوہ ملک کی مختلف اردو اکاڈمیوں سے بھی ایوارڈس مل چکے ہیں۔بچوں کے رسالے ’’گل بوٹے‘‘کے مدیر فاروق سیدنے کہا کہ ظفر گورکھپوری  زمانہ طالب علمی میں اسکولوں کی غیر نصابی تحریکوں میں حصہ لینے لگے اوربعض ادب کاذوق رکھنے والے اساتذہ کی ہمت افزائی کے نتیجے میں انہیں ادب کا چسکا لگا۔افسانہ نویس اورشاعر احمد کلیم فیض پوری نے کہا کہ ان کی شاعری ترقی پسند اور جدیدیت کے درمیان کی شاعری تھی۔یہی وجہ ہے کہ انہیں ادب اورمشاعروں میں ہاتھوں ہاتھ لیاگیا۔ڈاکٹر رام پنڈت نے فیس بک پر لکھا کہ ترقی پسند تحریک کے آخری دور میں جدید اردو غزل کے آغاز کے وقت غزل کے آسمان پرجونوجوان ستارے طلوع ہوئے ان میں ایک نام ظفرگورکھپوری کابھی تھا۔ان کاطرزِ بیاں گورکھپوری کے دیگر شاعروں میں واقعی مختلف تھا۔فیس بک پر ادبی رسالہ ’’اردو چینل ‘‘کے مدیر ڈاکٹر قمر صدیقی نے دُکھ کا اظہار کیا۔نغمہ نگار مدن پال نے لکھا کہ ظفرگورکھپوری کے انتقال سے موسیقی اورشاعری کا بڑانقصان ہوا ہے۔خدا ان کی مغفرت فرمائے۔ظفرگورکھپوری کے چند مشہور اشعار (۱)نیزے پہ رکھ کے اورمرا سربلند کر:دنیا کواک چراغ تو جلتا دکھائی دے (۲)ارادہ ہو اٹل تومعجزہ ایسا بھی ہوتا ہے:دِئیے کوزند ہ رکھتی ہے ہوا ایسا بھی ہوتاہے (۳)کسی معصوم بچے کے تبسم میں اترجاؤ:توشاید یہ سمجھ پاؤ کہ خدا ایسا بھی ہوتاہے (۴)اب بھیک مانگنے کے طریقے بدل گئے :لازم نہیں کہ ہاتھ میں کاسہ دکھائی دے (۵)میرے لیے کسی قاتل کاانتظام نہ کر:کریں گی قتل خوداپنی ضرورتیں مجھ کو۔