"سڑک حادثہ کے بعد بھٹکلی لوگوں سے متعلق میرے خیالات یکسر تبدیل ہوگئے"؛ ہریش

03:27PM Wed 28 Jun, 2017

بھٹکلیس نیوز : "بھٹکل سے گزرنے کے دوران میسورو کے ایک صحافی ہریش بی ایس  کا گزشتہ دنوں نوائط کالونی قومی شاہراہ پر حادثہ ہوگیا تھا جس میں ان کی کار کا پہیہ پھٹ جانے کے سبب ان کی کار بے قابو ہوکر تین گاڑیوں سے ٹکرا گئی تھی۔ دیکھنے والوں کے لئے ہوسکتا ہے کہ یہ محض ایک سڑک حادثہ ہو لیکن اس حادثہ میں زخمی ہونے والے کار ڈرائیور ہریشکا کہنا ہے کہ اس حادثہ کے بعد بھٹکلی لوگوں کے سلسلہ میں  جو ان کی منفی سوچ تھی وہ یکسر بدل گئی۔ انہوں نے اس تعلق سے کنڑا اخبار وجئے وانی میں ایک تاثراتی مضمون لکھا  ہے جس میں انہوں نے مضمون کو" متعصب ذہن سے آگے بسنے والے  بہترین دل کے لوگ " کا عنواندیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ" میں گزشتہ ہفتے اپنے اہل خانہ کے ساتھ مرڈیشورجاتے ہوئے بھٹکل سے گزر رہا تھا۔ اچانک میری کار حادثہ کا شکار ہوگئی۔ میری کار دو تین دوسری گاڑیوں سے ٹکراگئی اورکئی افراد زخمی ہوگئے۔ میری کار کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچا۔ خوش قسمتی سے کار میں موجود ہم تینوں میں سے کسی کو بھی ذرا سا بھی نقصان نہیں ہوا۔ چند ہی لمحوں میں سینکڑوں لوگ موقع پر جمع ہوگئے جن میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی۔ خوف میں گھرےمیں اورمیرے خاندان کے افراد کار سے نیچے اتر کر ادھر ادھر دیکھنے سے پہلے ہی صرف چار پانچ منٹ کے وقفے میں زخمیوں کو اسپتال کے لئے روانہ کردیا جاچکا تھا!۔۔۔۔حلانکہ چونکانے والی بات یہ تھی کہ زخمیوں میں  مسلمانوں کی تعداد نہ کے برابر تھی لیکن ان زخمیوں کو اسپتال پہنچانے والے صرف مسلمان تھے!۔۔۔۔ میں نے بھٹکل کے مسلمانوں کے بارے میں میڈیا میں  جو پڑھا تھا اور سنا تھا اس سے میرا یہاں کے مسلمانوں سے خوف زدہ ہونا ظاہر سی بات تھی۔ لیکن نہ کسی مسلمان نے مجھے اس حادثہ پر ہراساں کیا اور نہ ہی مجھے ڈرانے اور دھمکانے کی کوشش کی گئی بلکہ انہوں نے آگے بڑھ میری خیر خیریت دریافت کرتے ہوئے کار کے نقصان کے سلسلہ میں میری توجہ دلائی۔ بھٹکل شہر کے عوام کے اس رویہ سے میرے ذہن میں موجود تصویر بدل گئی  اور میں  سوچنے لگا کہ دور شہر میں بیٹھ کر بھٹکلی مسلمانوں کو دہشت گرد بتلانے والا میڈیا کتنا جانب دار اور متعصب ہے  میں نے دل میں یہ بھی سوچا کہ اگر یہی حادثہ میسور یا منڈیا میں میرے ساتھ پیش آتا تو میری کیا حالت  ہوئی ہوتی ۔ اس سے بڑھ کر یہاں کے عوام نے پولیس کے ساتھ بات چیت کرنے اور میرے کیس کے حل کے لیے عوام نے میرا بے انتہا ساتھ دیا جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں "۔