ڈاکٹر جسیم احمد کی سرکاری محکمہ کو نصاب تبدیل کرانے کی اپیل
12:20PM Fri 19 Aug, 2016
علی گڑھ19؍اگست: ’’ہندوستان میں اردو زبان اور روزگار کی ترقی پرکمیٹی‘‘ کے رکن سکریٹری ڈاکٹر جسیم محمدنے تمام مدارس اور سرکاری اسکولوں کے ذمہ داران کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے محکمہ کو مکتوب جاری کرکے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے نصاب کو جدید تقاضوں کے تحت تبدیل کریں کیونکہ ان کے قدیم اور فرسودہ نصابات دورِ حاضر اور بازار کے تقاضوں پرپورے نہیں اترتے ہیں۔
انہوں نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ مرکزی وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل کی’’ ہندوستان میں اردو زبان اور روزگار کی ترقی پرکمیٹی ‘‘ ملک میں اردو کے فروغ اور اس کو روزگار سے جوڑنے کے لئے سرگرمِ عمل ہے جس کے لئے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ’’ ہندوستان میں اردو زبان اور روزگار کی ترقی پرکمیٹی ‘‘ ملک گیر سطح پر سروے کر کے ملک بھر میں اردو کی تعلیم کی صورتِ حال کا جائزہ لے رہی ہے جس کے بعد وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل کو اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اردو کے فروغ اور اسے روزگار سے جوڑنے کے لئے اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
انہوں نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ آج ملک کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کا ہے جو دھیرے دھیرے نوجوان طبقہ کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے تعلیمی اداروں اور صوبائی حکومتوں کے پرائمری اور سیکنڈری تعلیمی شعبوں کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی ہے کہ سرکاری اسکولوں کے نصابات میں بڑے پیمانے پر نقائص ہیں جن کا دور کیا جانا اشد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسکولوں اور کالجوں کا نصاب دورِ حاضر کے بازار کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھ کر تیار کیا جانا چاہئے اور نصابی کتب میں دہشت گردی کے خلاف ابواب کو شامل کیا جانا چاہئے تاکہ بچوں کی ابتدا سے ہی دہشت گردی کے خلاف ذہن سازی کی جاسکے۔
ڈاکٹر جسیم محمد نے مدارس کے ذمہ داران کو تحریر کردہ مکتوب میں یاد دلایا ہے کہ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس کی بنیاد امن و آشتی پر رکھی گئی ہے لہٰذا مدارس کے نصاب کو اس طریقہ پر تیار کیا جائے کہ قرآن اور احادیث کی روشنی میں دہشت گردی کے خلاف ابواب نصاب کا حصہ بنائے جائیں۔اس کے علاوہ مدارس کے نصاب میں ٹیکنیکل اور ووکیشنل کورسیز کو بھی شامل کیا جانا چاہئے تاکہ مدارس کے فارغین کے روزگار کا نظم ہو اور وہ ملک کے ترقیاتی عمل کا حصہ بن سکیں۔