گجرات : پاٹيدارو ں کی جیل بھرو تحریک شروع ، ممبر پارلیمنٹ کے دفتر میں توڑ پھوڑ ، انٹرنیٹ خدمات بند ، دفعہ 144 نافذ

01:06PM Sun 17 Apr, 2016

مہسانا: گجرات میں ایک بار پھر پاٹيدار سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ پاٹيدار سماج کو ریزرویشن دلانے اور غداری کے الزام میں جیل میں بند ہاردک پٹیل اور دیگر پاٹيدار لیڈروں کو رہا کرانے کے لئے پاٹيداروں نے جیل بھرو تحریک شروع کی ہے۔ اسی دوران مہسانا میں پاٹيداروں اور پولیس کے درمیان زبردست جھڑپ ہو گئی ۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا تو پولیس نے ان پر آنسو گیس کے گولے داغے۔ وہیں مہسانا میں ممبر پارلیمنٹ جے شري بین پٹیل کے دفتر میں ہجوم نے جم کر توڑ پھوڑ کی۔ مہسانا میں بے قابو ہجوم کو دیکھتے ہوئے کرفیو لگا دیا گیا ہے، انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے اور دفعہ 144 نافذ کردیا گیا ۔علاوہ ازیں مہسانا میں کئی گاڑیوں اور اے ٹی ایم کو آگ کے حوالے کردیا گیا ۔ تشدد میں گرفتاری دینے پہنچے پاٹيدار لیڈر لال جی پٹیل بری طرح زخمی ہو گئے ہیں ، مہسانا میں اب بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم جاری ہے۔ سورت اور مہسانا کے علاوہ دیگر شہروں میں ریلی، دھرنا اور مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ وزیر اعلی آنندی بین نے کہا کہ تحریک تو چلتی ہی رہتی ہیں۔ ہمارا کام لوگوں کی خدمت کرنے کا ہے۔ ادھر سردار پٹیل گروپ کے سربراہ لال جی پٹیل نے کہا ہے کہ حکومت پاٹيداروںکی بات سننے کو تیار نہیں ہے ۔ ہریانہ میں جاٹ اور راجستھان میں گوجر ریزرویشن حاصل کر سکتے ہیں ، تو گجرات میں پاٹيدار کیوں نہیں۔