اپنے حقوق کی بحالی کے لئے اردو طبقہ فورم فار مسلم اسٹڈیز کے ساتھ تعاون کرے: دیارِ ادب انڈیا
02:29PM Tue 24 May, 2016
علی گڑھ24؍مئی: علی گڑھ کی معروف ادبی تنظیم دیارِ ادب انڈیا نے ملک کے اردو طبقہ سے اپیل کی ہے کہ وہ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان میں ہو رہی نا انصافی کے خلاف آواز بلند کرے اور اس سلسلے میں علی گڑھ کی فورم فار مسلم اسٹڈیز اینڈ اینالائسس کے زیرِ اہتمام30؍مئی2016کودہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاجی مظاہرہ میں شامل ہوکرفورم کو اپنا تعاون پیش کرے تاکہ اردو طبقہ کے حقوق کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
دیارِ ادب کی ایک اہم میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے دیار کے صدر ڈاکٹر راشدالاسلام نے کہا کہ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان پروفیسر ارتضیٰ کریم کی سربراہی میں اپنے قیام کے اصل مقاصد سے بھٹک گئی ہے اور کونسل میں اب انہیں لوگوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے جو اس کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضےٰ کریم کی گُڈ بک میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کے قیام کا مقصد اردو زبان کو فروغ دینا تھا اور یہ تبھی ممکن ہے جب اردو کے قلم کاروں کو ہر ممکن تعاون پیش کیا جائے جب کہ کونسل میں اب یہ ناممکن امر بنتا جا رہا ہے۔
دیارِ ادب انڈیا کے سکریٹری اویس جمال نے کہا کہ پروفیسر ارتضےٰ کریم نے کونسل کی ڈائرکٹر شپ سنبھالنے کے بعد اردو کے قلم کاروں کے لئے حلف نامہ جمع کرنے کی شرط لگاکر اردو طبقہ کو حکومت ، مرکزی وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل اور وزیرِ اعظم سے دور کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی سب کا ساتھ سب کا وکاس کو زمینی سطح پر نافذ کرنے کے لئے ہر طبقہ کے کسی قسم کی تفریق کے بغیر مفادات کی تکمیل کے لئے سرگرمِ عمل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر ارتضےٰ کریم کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اردو زبان نے ملک کی آزادی میں تاریخ ساز رول ادا کیا ہے اور اس زبان کا تحفظ اور اس کا فروغ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کی اہم ترین ذمہ داری ہے جس سے کونسل پروفیسر ارتضےٰ کریم کی رہنمائی میں کہیں بہت دور جا چکی ہے۔ انہوں نے مرکزی وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل سے اپیل کی ہے کہ وہ پروفیسر ارتضےٰ کریم کی مدتِ کار کی تحقیق کے لئے ایک اعلیٰ سطحی جانچ کمیٹی تشکیل دے اور جانچ مکمل ہونے تک پروفیسر کریم کو تعطیل پر بھیجا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے۔ انہوں نے مرکزی وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل کی اس کاوش کی ستائش کی ہے کہ وہ ملک کے سبھی طبقات کے فروغ کے لئے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی کونسل کو اس کے قیام کے اصل مقاصد پر لانے کے لئے یہ جانچ ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ حکومت کی کارکردگی پر کوئی انگلی نہ اٹھاسکے اور پروفیسر کریم کی بے راہ روی کے لئے مرکزی وزارت پر انگشت نمائی نہ ہو۔
میٹنگ میں بڑی تعداد میں معززین، قلم کار، دانشور ، اساتذہ ا ور ریسرچ اسکالرس موجود تھے جنہوں نے بیک زبان ملک کے تمام اردو طبقہ سے30؍مئی کو جنتر منتر پہنچ کر فورم فار مسلم اسٹڈیز اینڈ اینالائسس کے احتجاجی مظاہرہ کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
واضح ہوکہ مذکورہ احتجاجی مظاہرہ میں دیارِ ادب انڈیا کے میرٹھ، ہاپوڑ، بلند شہر، غازی آباد، باغپت، میوات، دہلی، فرید آباد کے علاوہ آگرہ، فیروزآباد، ہاتھرس، کاشی رام نگر وغیرہ کے تمام ضلع کوآرڈینیٹرس اپنے ساتھیوں کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔