ملک بھر میں منفرد شناخت دینے والا کئی منصوبوں سے جڑا آدھار کارڈ تنازعے کا شکار

03:15AM Sat 12 Oct, 2013

ملک بھر میں منفرد شناخت دینے والا کئی منصوبوں سے جڑا آدھار کارڈ تنازعے کا شکار بھٹکلیس نیوز ؍10 اکتوبر،2013 مرکزی حکومت نے ہندوستان کے تمام شہریوں کو پہچان دینے ایک امنگوں بھرا منصوبہ UIADI آدھار کارڈ پر کام شروع کرکے ہندوستان کی تقریباً نصف آبادی کو آدھار کارڈ سے جوڑ دیا اور ہنوز ایک قابل لحاظ آبادی کو اس کے تحت لایا نہیں گیا ہے ۔ حکومت کا مقصد تھا کہ تمام ضروری خدمات کو اس سے مربوط کرکے ملک بھر میں یکسانیت لائی جائے اور ایک نمبر کے ذریعے شہری شناخت ہو ۔ حکومت نے آدھار کارڈ کو بنیادی طور پر پاسپورٹ اور گیس کی سبسیڈی کے حصول سے جوڑا اور گیس کی سبسیڈی ، گاہکوں کو ڈیلروں کے ذریعے پہچاننے کے بجائے براہ راست کارڈ رکھنے والے کے کھاتے کو منتقل کرنے کی اسکیم تیار کی اور اس پر عمل بھی جاری ہے ۔ لیکن اس دوران سپریم کورٹ کی ایک رولنگ بنچ نے کہا ہے کہ ضروری خدمات کو آدھار سے نہ جوڑا جائے اس نے پورے منصوبے پر سوالیہ نشان لگادیا ہے ۔ حکومت نے آدھار کارڈ پر سپریم کورٹ کے حکم میں ترمیم کرنے کے لئے ایک عارضی داخل کی ہے لیکن اس سے حکومت کو کوئی راحت نہیں ملی ۔ عدالت نے اپنے عبوری حکم میں ترمیم کرنے سے انکار کیا ۔ اس کا استدلال ہے کہ آدھار کارڈ کی غیر موجودگی میں کسی بھی شخص کو کسی بھی منصوبہ بندی کے فوائد سے محروم نہیں کیا جائے گا ۔ اب جبکہ آدھار کارڈ کی بنیاد پر گیس کے صارفین کو سبسیڈی کی منتقلی شروع ہوگئی ہے اور ہندوستان کے تقریباً 97/ اضلاع میں اس پر عمل شروع ہوگیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا اس کارروائی پر اثر انداز ہونا یقینی ہے ۔ حکومت کے پاس اگر اتنی سوجھ بوجھ نہیں تھی کہ وہ اس امنگوں بھرے منصوبوں کی کسی بھی مخالفت کا توڑ کرسکے گی تواسے یہ اسکیم نافذ کرنے سے پہلے پورے عواقب و نتائج کا جائزہ لے کر اسے روبہ عمل لانا تھا لیکن مرکزی حکومت نے بغیر سوچے سمجھے اسکیم کا آغاز کر دیا اور اس پر کروڑوں روپیہ خرچ بھی ہوگئے اور اب درمیانی مرحلے میں سپریم کورٹ کی اس رولنگ نے آدھار کارڈ کی اہمیت کو گھٹا دیا ۔ دیکھنا ہے کہ مرکزی حکومت اپنے امنگ بھرے منصوبے کو بچانے کے لئے کیا کیا اقدامات کرے گی ۔ اگر اس نے اسے بچا کر بحال کرنے کی کوشش نہیں کی تو اب ایک جانب تونہ صرف مرکزی حکومت کا وقار مجروح ہوگا بلکہ ان ہندوستانی شہریوں کی شبانہ روز کی محنت رائیگاں جائے گی جو اپنے قیمتی وقت کی قربانی دے کر آدھار کارڈ کے مراکز کو پہنچے اور اپنے نام درج کروائے۔ (مہمان اداریہ)