سفرنامہ کی حیثیت ایک تاریخی دستاویز کی ہوتی ہے : مولانا سعید الرحمن اعظمی

02:41PM Wed 20 Jul, 2016

دبئی: متحدہ عرب امارت کے معروف شہر دبئی میں گذشتہ شب ڈاکٹر شہا ب الدین ثاقب قاسمی کی نئی کتاب خوشبو کا سفر کا رسم اجرا، ملک وبیرون ملک کے متعدد علماء و دانشوران کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ خوشبو کا سفر شیر میسور ٹیپو سلطان کے آبائی وطن میسور کے سفر پر مبنی ہے۔ سال 2015 میں مفتی محفو ظ الرحمن عثمانی صاحب کی قیادت میں اکابر علماء کے ایک گروپ نے وہاں کا سفر کیا تھا، جس کی رواد خوشبو کے سفر کے نام سے مرتب کی گئی ہے ۔ اس موقع پر اپنے صدراتی خطاب میں معروف عالم دین حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی مہتمم دارالعلوم ندو ۃ العلما نے کہاکہ سفر نامہ کی بہت زیادہ اہمیت ہے ،اس صنف سے صرف سفر کی داستان معلوم نہیں ہوتی ہے ،بلکہ ایک تاریخی معلومات فراہم ہوتی ہے ،قرآن کریم میں سفر کے تعلق سے مکمل ایک سورت نازل کی گئی ہے ۔ ابن بطوطہ کے سفر نامہ کو تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ مورخین نے کہا ہے کہ شیر میسور کے بغیر ہندوستان کی آزادی کی تاریخ نامکمل ہے ۔مفتی محفوظ الرحمن عثمانی اور ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب اس کیلئے قابل مبارکباد ہیں ۔
مولانا شاہد سہارن پوری نے اپنے خطاب میں کہاکہ شیر میسور ہندوستان کی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں ،وہاں کا سفر یادگار اور بے مثال تھی ۔ مفتی عثمانی صاحب نے اس سفر کی روداد کو مرتب کرواکر بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ مولانا سفیان قاسمی صاحب مہتمم درالعلوم وقف دیوبند نے اپنے خطاب میں کہاکہ سفرنامہ کی اہمیت ہر زمانہ میں رہی ہے ،دوسرے مقامات پر جانا ،وہاں کے حالات سے واقفیت حاصل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانا ،بہت اہم کام ہے ۔ انہوں نے اس موقع پر مفتی عثمانی اور مرتب کتاب کو مبارکباد پیش کی۔ مفتی محفوظ الرحمن عثمانی صاحب نے اپنے خطاب میں کہاکہ شیر میسور ٹیپو سلطان ہندوستان کی تاریخ کے نمایاں باب ہیں ۔ ان کی زندگی سے وابستہ ہر چیز عظیم اور تاریخی ہے ،وہاں کا سفر بہت ہی خوشگوار تھا اس لئے اس کتاب کا نام خوشبوکا سفر رکھاگیا ہے۔ مفتی عثمانی صاحب نے اس موقع پر تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ علاوہ ازیں پروگرم سے مولانا حکیم عثمان استاذ حدیث مسجد نبوی شریف ،مفتی زاہد علی خان علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی سمیت متعددلوگوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ اس موقع دبئی میں قیام پذیر ہندوستانی ،پاکستانی سمیت متعدد ملکوں کی عوام کے علاوہ عرب حضرات بھی شریک تھے ،جن میں مولانا ثمین اشرف قاسمی ،قاری عبد الحمدید ندوی صاحب ،حاجی شفع اللہ لطفی صاحب ،جناب ساجد مہتاب صاحب ،جناس سلیم الرصاصی، صاحب ،مفتی لقمان مقری ،مولاناذاکر ندوی ،جناب اسلم ،محترم پرویز صاحب ،خورشید اعظمی صاحب،مولانا اسحاق صاحب سمیت متعدد لوگوں کے نام قابل ذکر ہیں ۔