وزیر اعلیٰ نے بی جے پی لیڈروں کے خلاف زیر التواء تمام رشوت خوری معاملات کی تفصیلات حاصل کیں

02:26PM Wed 9 Aug, 2017

بنگلور( بھٹکلی نیوز ):۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا نے بی جے پی کے تمام لیڈروں کے خلاف زیر التواء رشوت خوری اور دیگر بدعنوانیوں کے معاملات کی تفصیلات حاصل کی ہیں اور اب اس کی جانچ کرانے کا فیصلہ لیا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ سدارامیا نے حال ہی میں محکمۂ انکم ٹیکس کے ذریعہ وزیر برائے توانائی ڈی کے شیوا کمار کی رہائش گاہ اور دیگر ٹھکانوں پر چھاپے ، غیر قانونی جائیدادوں کے تعلق سے ضبط دستاویزات اور دیگر چیزوں کی ضبطی کے معاملات کو لیکر سخت ناراض ہیں اور یہ سب وزیر اعظم نریندرمودی اور مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی کے اشاروں پر ہوا تھا اور یہ بات تمام سیاسی قائدین اور مبصرین کو معلوم ہے۔اس انکم ٹیکس کے چھاپو ں سے کانگریس کو ہی زیادہ فائدہ حاصل ہوا ہے اور وہ لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے اور اس سے سب سے زیادہ نقصان بی جے پی کو ہوا ہے۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مرکزی جانچ ایجنسیاں جب چاہے تب جانچ کرنے اور چھاپے مارنے کا اختیار رکھتی ہیں مگر اس وقت چھاپے مارے گئے ۔ جب گجرات کے 44اراکین اسمبلی بنگلور کے مضافات میں واقع ایک ریسارٹ میں قیام کیا تھا۔ بی جے پی کو یہی ڈر تھا کہ شیوا کمار اراکین اسمبلی کی مہمان نوازی کررہے ہیں اور ان کے لئے کئی قیمتی تحفہ جات دینے کے علاوہ کئی شہروں کی سیر و تفریح بھی کرانے والے ہیں مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔دوسری طرف شیواکمار کی والدہ سوبھاگیہ نے بھی وزیر اعلیٰ پر الزام لگایا کہ وہ اس کے فرزند کا غلط استعمال کیا ہے اور اس کی مدد نہیں کی۔اس لئے وزیر اعلیٰ نے بی جے پی لیڈروں کے خلاف زیر التواء تمام رشوت خوری اور بدعنوانیوں کے معاملات کی دوبارہ جانچ کرکے بی جے پی لیڈروں کو ذہنی طورپر پریشان کرناہے۔سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یڈ یورپا کے ذریعہ کان کنی کو شروع کرنے کیلئے لائسنس جاری کرنے ۔ تعلیمی ٹرسٹ کے ذریعہ چلانے جارہے تعلیمی اداروں کے نام پر سرکاری زمینات پر ناجائز قبضہ۔ جگدیش شٹر کے ذریعہ ہبلی میں جمخانہ زمین پرناجائز قبضہ، رکن پارلیمان شوبھا کرندالاجے کے ذریعہ بجلی کی خریدی کے تعلق سے ہوئے گھوٹالے، سابق وزراء کنا سبرامنیانائیڈو، ایم کرشنیا، آر اشوک، کے ایس ایشورپا ، پر تال ہالپا، سی ایم اُداس اور دیگر کئی عوامی نمائندوں کے ذریعہ ہوئی بدعنوانیو ں اور دیگر معاملات کی جانچ کرانے کا حکم دیا ہے یا زیر التواء مقدموں کی شنوائی میں تیزی لانے یا دیگر لوگو ں کے ذریعہ لوک آیوکتہ یا اینٹی کرپشن بیوریو میں نئے معاملات درج کرانے کا فیصلہ لیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے لوک آیوکتہ، محکمۂ پولیس ، محکمۂ انکم ٹیکس اور دیگر مرکزی جانچ ایجنسیوں میں کام کرچکے سابق اعلیٰ افسران کے ساتھ بھی خفیہ طورپر ایک اجلاس کیا تھا اور اس کی اطلاع کسی کو نہیں ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ اسمبلی انتخابات کے قریب وزیر اعلیٰ ان لیڈروں کو گرمی پہنچانا چاہتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر جیل بھی بھیجنے کے لئے تمام تیاریاں کرلی ہیں اور اس کے لئے ماہرین قانون سے بھی کئی صلاح اور مشورے حاصل کئے ہیں سیاست میں کب کس وقت کیا ہوسکتا ہے اور کیا نہیں ہوگا کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔کل کا دشمن آج دوست بن سکتا ہے۔