منگلور میں"دہشت کی سیاست ختم کرو "مہم کے دوران ریالی اور عوامی اجلاس میں ہزاروں کی تعداد میں کارکنان اور عوام شریک

04:18PM Wed 26 Apr, 2017

ہماری خاموشی فرقہ پرستوں کو حوصلہ دیتی رہے گی لہذا ظلم کے خاتمہ کے لیے ہمیں لگاتار آواز اٹھاتے رہنا چاہئے۔ اے سعید منگلور (بھٹکلیس نیوز) ۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کی جانب سے 8تا 29اپریل جاری ملک گیر مہم 'دہشت کی سیاست ختم کرو' کے ایک حصے کے طور پر منگلور ضلع الال میں ایک عظیم الشان ریالی اور عوامی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ واضح رہے کہ اس مہم کے تحت تمل ناڈو، کرناٹک، کیرلا، راجستھان، آندھر اپردیش، مہاراشٹرا، اتر پردیش، بہار، گوا، منی پور،مدھیہ پردیش، مغربی بنگال میں بڑے پیمانے پر عوامی اجلاس ، ریالیاں، پوسٹر مہم، نوٹس مہم، اسٹریٹ میٹ کا انعقاد کرکے ملک میں جاری دہشت کی سیاست کے خلاف مہم جاری ہے اور 29اپریل2017 کو نئی دہلی ، جنتر منتر پر صبح 10تا شام 5بجے ایک روزہ احتجاجی دھرنا دیا جائے گا ۔ جس میں ملک بھر سے ایس ڈی پی آئی اور دیگر تنظیموں کے عہدیداران اورمندوبین شریک رہیں گے۔ ریاست کرناٹک منگلور شہر میں انعقاد کئے گئے ریالی کا افتتاح قومی صدر اے سعید کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ ریالی کا آغازپوکٹے علاقے سے ہوا الال بازار پر اختتام ہوا۔ جس کے بعد الال کے حضرت اسکول میدان میں عوامی اجلاس ہوا۔ اسٹیج کو خاتون مجاہدین آزادی رانی اپپکا دیوی چوتھا کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ عوامی اجلاس کی صدارت دکشن کننڈا ضلعی صدر حنیف خان نے کی ۔عطاء اللہ جوکٹے نے مہمانوں کا استقبال کیا۔نظامت کے فرائض ضلعی جنرل سکریٹری اقبال بلارے نے کی۔ عوامی اجلاس میں قومی جنرل سکریٹری الیاس محمد تمبے، ریاستی صدر عبدالحنان، ریاستی سکریٹریان اکرم حسن، ریاض فرنگی پیت، الپانسو فرانکو ، ریاستی ورکنگ کمیٹی رکن کوسپا،اور ضلعی ذمہ داران میں ناصراحمد، حارث، نوازشریک رہے۔ عوامی اجلاس میں مہمان خصوصی طور پر مدعو قومی صدر اے سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں تمام طبقات کے ساتھ ظلم و ناانصافی ہورہی اگر ہم خاموشی اخیتارکریں گے تو فرقہ پرست طاقتوں کو مزید حوصلہ افزائی ہوگی ،لہذاظلم کے خلاف ہمیں لگاتار آواز اٹھاتے رہنا چاہئے۔ انہوں نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی کمیونسٹ اور سیکولر پارٹیاں اس ظلم کی خلاف آواز اٹھانے کی بجائے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ان پارٹیوں سے قومی صدر اے سعید نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والی ایس ڈی پی آئی کا ساتھ دیں اور ملک کی تمام سیکولر پارٹیاں متحد ہوکر دہشت کی سیاست کا خاتمہ کریں۔ ملک میں دلتوں، اقلیتوں اور پسماندہ طبقات پر UAPAجیسے کالے قوانین کے ذریعے ان کے اندر خوف ہراس کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا صرف سیاسی انتخابات نہیں بلکہ احتجاجی سیاست کرکے عوام کو اقتداردلانے اور آزاد ہندوستان میں غلامی کی زندگی گذاررہے عوام کو آزادی دلانے کے لیے ایس ڈی پی آئی جدوجہد کررہی ہے۔ کرناٹک ریاستی صدر عبدالحنان نے اپنے خطاب میں کہا ہے ملک میں دہشت پھیلا کر جو تناؤ کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے اس کے خلاف ہمیں اٹھ کھڑے ہونا چاہئے ۔ نریندر مودی حکومت کے تین سال مودی مودی کے نعرے لگاتے ہوئے گذر گئے اور بقیہ دو سال یوگی یوگی کا نعرہ لگا کر ختم ہونے والے ہیں۔ ہمارے ملک کا نعرہ جئے جوان جئے کسان تھا۔ جو اب بھوکا جوان ننگا کسان نعرے میں تبدیل ہوگیا ہے۔ جانوروں کو بچانے کے لیے انسانوں کا قتل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مسلمان ، دلت، عیسائی اور دیگر پسماندہ طبقات مل کر اگر اس دہشت کی سیاست کے خلاف لڑیں گے تو ہم اس ملک سے فرقہ وارانہ طاقتوں کو اقتدار سے بے دخل کرکے ہم ایک نیاہندوستان تعمیر کرسکتے ہیں ۔ جس ہندوستان میں سب کو انصاف اور مساوات حاصل ہوگی۔ آج ملک کو ہندو راشٹرا بنانے کی بات ہورہی ہے دراصل اس ملک کو بھارت راشٹر بنانا چاہئے ۔ انہوں نے کرناٹک کے سیکولر پارٹیوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کرناٹک میں بھی بہار جیسا ماڈل اپنانا ہے جس کے لیے کانگریس، جے ڈی ایس ، ایس ڈی پی آئی، بی ایس پی ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کو متحدہوکر کرناٹک میں فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار پر قابض ہونے سے روکنا ہوگا۔ قومی جنرل سکریٹری الیاس محمد تمبے نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ملک کی کئی ریاستوں میں ایس ڈی پی آئی کی اس مہم کے ذریعے عوام میں بیداری پیدا کی جارہی ہے۔ انہوں نے گؤ رکشا کے نام پر ہونے والے قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی غنڈہ گردی کو فوری طور پر لگام دینا چاہئے۔ دکشن کننڈا کے ضلعی صدر حنیف خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریاست میں پولیس کی بربریت پر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس عوام کی حفاظت کے لیے ہوتی ہے نہ کہ عوام کو یا کسی خاص طبقے کو نشانہ بنا کر ان پر تشدد کرنے اور جھوٹے مقدمات درج کرکے اپنے فرض کا مذاق اڑانا نہیں ہے۔ منگلور میں مسلم نوجوانوں پر پولیس پر حملہ کے تعلق سے کانگریس اور جے ڈی ایس کے مسلم لیڈروں کی خاموشی پر تشویش کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ کا اس معاملے میں ان کی خاموشی قابل مذمت ہے۔ اجلاس کے اختتام میں ضلعی عہدیدار اشرف نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔