مسلمان خیر خواہی کے کاموں میں آگے آئیں نوجوان ردعمل کا رویہ اختیار نہ کریں: مولانا محمود مدنی
02:30PM Wed 9 Aug, 2017
بنگلور:(بھٹکلیس نیوز)جمعیت العلماء ہند کے جنرل سکریڑی اور سابق یم پی مولانا محمود مدنی نے مسلمانوں سے اپیل کہ وہ آج کے موجودہ حالات میں مسلکی اور فروعی معاملات کو پیچھے ڈال کر خیر خواہی کے کاموں میں جٹ جائیں لمبی مدت کی پالیسی مرتب کرکے دیگر برادران وطن کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کریں اور آپسی بھائی چارہ اور یکجہتی کو مضبوط کریں آج یہاں مدرسہ شاہ ولی اللہ میں اُردو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا محمود مدنی بتایا کہ آج ملک میں ایک مخصوص طبقہ جو چھوٹی اقلیت میں ہے ملک کے سمجھدار لوگوں کو یہ تاثر دے کر بہکانے میں لگاہے کہ اب اقتدار ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اب اس ملک میں ہم خیال لوگوں کو ہی مواقع حاصل ہوں گے۔ اور جو ہمارے ہم خیال نہ ہوں گے ان کو ان مواقع سے محروم رہنا پڑے گا۔مولانا محمود مدنی نے کہا کہ اس طرح کی سوچ ہندوستان کے مزاج اور ہندوستانیوں کی روح کے خلاف ہے جب بھی ایسا وقت اور حالات آئے ہیں ہندوستانیوں نے اس طرح کی سوچ اور سازش کو ناکام بنادیا ہے۔ آج بھی ہم پورے اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ عارضی طور پر یہ کامیاب نظر آرہے ہیں لیکن مستقل طور پر کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ مولانا مدنی نے مسلمانوں خصوصاً نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ جدوجہد سے آگے بڑھیں کسی بھی ردعمل کا شکار نہ بنیں کیونکہ ردعمل سے اشتعال اور جذبات بھڑکتے ہیں اور دشمن کے جال میں پھسنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ مولانا محمود مدنی نے ملک کے بردران وطن سے مخا طب ہو کر کہا کہ وہ موجودہ صورتحال کو دیکھ کر خاموش نہ بیٹھیں بلکہ حالات کا سامنے کرنے کے لئے سامنے آئیں ۔ قربانی کیتعلق مولانا نے کہاکہ قربانی مسلمانوں کے مذہب کا ایک فریضہ ہے وہ ا س پر قائم ہیں قربانی کے راستہ میں حکومت رکاوٹ کھڑی کرتی ہے تو ہم ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ قربانی کے جانوروں کو اکرام کے ساتھ رکھیں اس کی نمائش یا مظاہرہ نہ کریں موجودہ حالات میں سادگی کے ساتھ قربانی کا نظم کریں۔ اس پر کانفرنس میں مفتی افتخار احمد قاسمی ، جناب تفہیم اللہ ،جناب انور شریف ، مولانا زین العابدین ، مفتی شمس الدین وغیرہ بھی موجود تھے ۔ اس موقع پر جمعیت العلماء ہند کرناٹک کی طرف سے مفتی افتخار احمد قاسمی نے گجرات ریلیف فنڈ کیلئے کرناٹک یونٹ کی طرف سے گیارہ لاکھ روپئے کا چیک مولانا محمود مدنی صاحب کی خدمت میں پیش کیا۔