ٹول فیس میں اضافہ کرنے پر محکمۂ تعمیرات عامہ نے نائس کمپنی کو نوٹس جاری کی

04:01AM Fri 14 Jul, 2017

بنگلور( بھٹکلیس نیوز ):۔ محکمۂ تعمیرات عامہ نے اچانک ٹول فیس میں اضافہ کرنے پر نندی انفراسٹرکچر کاری ڈگر انٹرپرائز ( این آئی سی ای) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سات دنوں کے اندر فیس کم کرنے کاحکم دیا ہے۔ کمپنی نے یکم جولائی سے ہی لگ بھگ 33فیصد ٹول فیس میں اضافہ کرنے پر تمام سواریوں کے مالکان اور لوگوں نے اس کی مخالفت کی تھی اور دھرنا بھی دیا اگر فیس میں کمی نہیں کی تو اس کے خلاف کاروائی ہوگی۔ فریم فرک اگریمنٹ کوجاری کئے بغیر خلاف ورزی کرنے کا معاملہ ہائی کورٹ میں معاملہ زیر التواء ہے اور ابھی رٹ عرضی کی شنوائی مکمل نہیں ہوئی ہے اس کے باوجود ٹول فیس میں اضافہ کرنا قانون کے خلاف ہے اس لئے اضافہ کو واپس لینے کا حکم دیا ہے ورنہ اس کے خلاف قانونی کاروائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہیگا۔ کمپنی نے حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے تحت مقررہ وقت کے اندر تار سڑکوں کو کانگریٹ سڑکوں میں منتقل کرنے کے تعلق سے 4جون 2002میں معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدہ کے تحت کمپنی کو تیسری فیرل اور لنک سڑکوں کو29مارچ2012 کے اندر کانگریٹ میں تبدیل کرناتھا لیکن ابھی تک یہ کام ادھورہ ہے۔ اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیکر محکمۂ نے 5 فروری 2016 کو نوٹس جاری کی تھی۔ اس نوٹس کو لیکر کمپنی نے ہائی کورٹ میں رٹ عرضی داخل کی تھی اور یہ معاملہ عدالت میں زیر التواء ہونے کی وجہ سے ٹول فیس میں اضافہ کرنے کمپنی کوکوئی اختیار نہیں ہے۔سال 2000میں ہوئے معاہدے کے تحت ٹول رعایت معاہدے کے تحت ٹول فیس میں کم کرنا یا تجدید کرنے کا اختیار صرف حکومت کو ہے اور اس سلسلہ میں نوٹی فیکشن جاری کرنے کے بعد ہی ٹول فیس میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔حکومت نے سال 2008 میں ٹونی فکیشن جاری کرکے ٹول فیس کی وصولی کا حکم دیا تھا 12جنوری 2010اور 13دسمبر2010 کو ٹول فیس میں اضافہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ نائس کمپنی نے فیری ٹیرل روڈ ہوسور بنرگٹہ روڈ پر کار کے لئے 40روپئے ۔ بس کے لئے 105روپئے ۔ ٹرک کے لئے 70روپئے ۔ایل سی وی سواریوں کے لئے 40روپےئے ۔ایم اے وی ( پرایکسل کے لئے ) 75روپئے اور دوپہیوں کے لئے 15روپےئے کی ٹول فیس وصول کی جارہی ہے اسی طرح بنرگٹہ سے کنکا پورروڈ۔ کنکاپورہ روڈ سے کلوورلیف۔ کلودو لیف سے میسور روڈ۔ میسور روڈ سے ماگڑی روڈ اور ماگڑی روڈ سے ٹمکور روڈ اور لنگ روڈ کے لئے ٹول فیس میں اضافہ کیا گیا ہے اب نائس کمپنی کو ٹول فیس کم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔