ریاست کے مختلف علاقوں سے منگلور کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے بائک ریا لی

03:15PM Tue 5 Sep, 2017

پولیس کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات،میسور کے شاہی محل سے آج صبح 10 بجے بایک ریالی لیجانے بی جے پی کے قائدین بضد میسور ستمبر ( بھٹکلیس نیوز )بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے مورخہ 7 ستمبر کو منگلور میں ایک ریالی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جس میں شرکت کرنے بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکن موٹار بائک ریالی کے ذریعہ مورخہ 7 ستمبر کو منگلور کو پہنچنے اور اس جلسہ میں شرکت کا منظوبہ بنایا تھا۔ لیکن کانگریس کی قیادت والی ریاستی حکومت نے اس ریالی کو ناکام بنانے کے لئے سخت قدم اٹھائے ہیں،۔اور تمام پولیس تھانوں کو حفاظتی انتطامات کا انتظامات کرنے کے لئے سخت تاکید کی گئی ہے۔ یہاں میسور میں اپنے دفتر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے میسور کے پولیس کمشنر ڈاکٹر اے سبرامنیشورا راؤ نے بتایا کہ میسور شہر کے حدود میں بروز چہارشنبہ کی صبح 6.00 بجے سے مورخہ 8 صبح 6.00 بجے تک دفعہ 144 کے تحت امتنائی احکامات نافز کئے گئے ہیں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائیگی ۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 3 سال کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے آج بروز چہارشنبہ سے ایک ریالی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جو میسور سے پریاپٹنہ، خوشحال نگر، مڈکیری، شولیا، پتور اور بنتوال سے ہوتے ہوئے منگلور پہنچنے والی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے یوتھ مورچہ کے20,000 سے زائد یوتھ کارکنوں کو منگلور میں منعقد ہونے والے جلسے میں جمع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ریاست میں نظم و ضبط کا خاص خیال کرتے ہوئے ریاست کے کسی بھی پولیس اسٹیشن میں اس ریالی کو نکالنے کے لئے اجازت نہیں دی ہے۔ میسور کے پولیس کمشنر ڈاکٹر اے سبرامنیشورا ؤ کے اعلان کے باوجود میسور میں بھارتئیہ جنتا پارٹی کے اراکین نے آج بروز چہارشنبہ صبح 10 بجے میسور کے شاہی محل سے عظیم الشان ریالی کا ااہتمام کرنے کے اعلان کیا ہے۔ جس میں 1500 موٹر بائک شامل ہونگے۔ میسور ے پولیس کمشنر ڈاکٹر اے یس راؤ نے بتایا کہ میسور میں 48 گھنٹوں کے لئے امتناعی احکامات نافذ کئے گئے ہیں اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نہیں بخشا جائیگا۔ اور ہمارے 3000 پولیس جوانونوں کی ٹیم موجود ہے جس کے ذڑیعہ اس ریالی کو نکالنے کیم ہر گز اجازت نہیں دی جائیگی۔ اور قانون کی خلاف وزری کرنے ولوں کو گرفتار کرلیا جائیگا۔ اور ان کے خلاف راؤڈی شیٹ میں نام درج کرلیا جائیگا۔ اور گرفتار کئے جانے والے بھارتئیہ جنتا پارتی کے کارکنوں کے خلاف ناقابل ضمانت کا مقدمہ درج کرلیا جائیگا۔ اور انہیں کسی دوسری جیل کو فوراً روانہ کردیا جائیگا۔ اور اس ریالی میں استعمال کی جانے والی موٹر بائک کو آسانی کے ساتھ واپس نہیں کیا جائیگا۔ اور اس کے علاوہ اس ریالی میں خرچ کئے جانے واے روپئے کے تعلق سے محکمہ انکم ٹیکس کے افسران کو اطلاع دیء جائیگی۔ ڈاکٹر اے یس راؤن ے بتایا کہ حالانکہ بھارتیہ جنتا پارتی کی جانب سے مورخہ 30 اگست کو ریالی نکالنے کے لئے گزارش نامہ ملا تھا لیکن یہ ریالی کا گزر حساس علاقوں سے ہوگا اس لئے ہم نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔میسورکے پتراکرترا بھون میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے میسور سٹی بھارتیہ جنتا پارتی کے صدر ڈاکٹر بی ہچ منجوناتھ نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے امتناعی احکامات نافز کئے جانے کے باوجود ہم بروز چہارشنبہ صبح 10 بجے میسور کے شاہی محل کے روبرو کوٹے آنجنیا مندرسے ریالی نکالیں گے۔ ڈاکٹر منجوناتھ نے بتایا کہ کانگریس کی قیادت والی ریاستی حکومت ایک امن سے نکالی جانے والی ریالی کو روکنے کی کوشش کررہی ہے اور حکومت خود ساری ریاست میں تناؤ پیدا کرنا چاہتی ہے۔ یہ ہندو مخالف پالیسی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ کانگریسی کی قیاددت الی ریاستی حکومت کا پردہ فاش کیا جائے۔ عوام میں بڑھتی ہوئی بھارتئیہ جنتاپارتی کی مقبولیت سے شری سدرامیا کافی گھبراگئے ہیں اسی لئے وہ ہمیں ریالی نکالنے سے روک رہے ہیں۔ ہم کسی بھی مذہب کے ماننے والونکے خلاف نہیں ہیں۔ اور نہ ہی مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ ریاست کے مختلف علاقون میں اب تک 24 افراد کا قل کیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر ڈی وی سدانند گوڈا اے عظیم الشان ریالی کا افتتاح کرینگے۔ سابق ریاستی وزراء شری آر اشوک اور شری یس اے رام داس بھی اس موقع پر موجود رہینگے۔