سعودی جنگجو کی گرفتاری پرپانچ ملین ڈالر امریکی انعام

04:31PM Thu 19 Nov, 2015

امریکی حکومت نے سعودی عرب کے ایک شدت پسند کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر پانچ ملین ڈالر کی خطیر رقم بہ طور انعام ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اشتہاری قرار دیے گئے جنگجو طراد محمد الجربا المعروف ابو محمد الشمالی دنیا کے مختلف ملکوں سے دہشت گردوں کو بھرتی کرنے کے بعد شام میں دولت اسلامی "داعش" کہلوانے والی تنظیم تک پہنچانے میں مدد کر رہا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ابو محمد الشمالی نامی سعودی شدت پسند کا تعلق سعودی عرب سے ہے اور وہ دولت اسلامی "داعش" کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کے بعد انہیں شام کی سرحد سے اندر بھیجنے میں سرگرم ہے۔ تنظیم کی جانب سے اسے "بارڈر چیف" کا عہدہ سونپا گیا ہے۔ امریکی حکومت نے ابو محمد الشمالی کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے اس کے تمام اثاثے منجمد کر دیے ہیں اور اس کے سفر پر پابندی عاید کرنے کے ساتھ اس کی زندہ گرفتاری پر پانچ ملین ڈالر کی رقم مقرر کی گئی ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق 35 سالہ جنگجو ماضی میں اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ کے ساتھ بھی وابستہ رہ چکا ہے۔ اشتہاری قرار دیا گیا سعودی جنگجو ان دنوں ترکی سے متصل شام کے سرحدی شہر جرابلس میں مقیم ہے۔ پچھلے کئی ماہ سے وہ آسٹریلیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ سے "داعش" میں شمولیت کے لیے آنے والے جنگجوئوں کو ان کی منزل مقصود تک پہنچانے میں مدد کر رہا ہے۔ شام میں عزاز کے مقام پر اس نے جنگجو بھرتی کا ایک مرکز بھی قائم کر رکھا ہے جہاں نئے بھرتے ہونے والوں کو عسکری تربیت بھی دی جاتی ہے۔ خیال رہے کہ امریکی وزارت خزانہ نے 29 ستمبر کو بلیک لسٹ کیے گئے 15 شدت پسندوں کی ایک فہرست جاری کی تھی۔ اس فہرست میں بھی سعودی جنگجو طراد الجربا اور ناصر محمد عواد الغیدانی الحربی کے نام بھی شامل ہیں۔