کشمیر معاملہ پر پارلیمنٹ میں پھر ہنگامہ ، راجناتھ سنگھ نے کہا : ثالثی کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا

02:02PM Wed 24 Jul, 2019

کشمیر پر امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے دئے گئے بیان پر بدھ کو بھی لوک سبھا میں جم کر ہنگامہ ہوا ۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے سرکار کو گھیرنے کی کوشش کی ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کو ایوان میں آکر بتانا چاہئے کہ آخر ان کے اور ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان کشمیر کو لے کر کیا بات چیت ہوئی ۔ ہنگامہ کے درمیان وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہماری حکومت ملک کے وقار کے ساتھ کسی بھی طرح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان سے جب کبھی بھی اس معاملہ پر بات ہوگی ، اس وقت صرف کشمیر پر ہی بات نہیں ہوگی بلکہ پورے پاکستان مقبوضہ کشمیر پر بات ہوگی ۔
 انہوں نے کہا کہ کشمیر پر کوئی ثالثی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے ۔ راجناتھ سنگھ نے اعتراف کیا کہ جون میں وزیر اعلی اور ڈونالڈ ٹرمپ کی ملاقات ضرور ہوئی تھی ، لیکن کشمیر معاملہ پر کوئی بات نہیں کی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت وزیر اعظم مودی اور امریکہ کے صدر ٹرمپ کی ملاقات ہوئی تھی ، اس وقت وزیر خارجہ ایس جے شنکر وہاں پر موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کی کوئی بھی بات سننے کیلئے تیار نہیں ہے جبکہ وزیر خارجہ پہلے ہی اس معاملہ میں اپنا بیان دے چکے ہیں ۔
وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے وقت شملہ سمجھوتہ کے بعد کشمیر کا معاملہ دوطرفہ ہوگیا تھا ۔ اس معاملہ پر کوئی بھی تیسرا فریق سامنے نہیں آسکتا ۔ خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے ان سے کشمیر معاملہ پر ثالثی کرنے کیلئے کہا ۔ ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر میں مدد کرسکتا ہوں تو میں ثالث بننا پسند کروں گا ۔ اگر میں مدد کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہوں تو مجھے بتائیں ۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ مدد کیلئے تیار ہیں ۔ اگر دونوں ممالک اس کیلئے کہیں ۔ ٹرمپ کے اسی بیان کے بیان ہندوستان میں سیاسی ہنگامہ آرائی جاری ہے اور بدھ کو لگاتار دوسرے دن پارلیمنٹ میں ہنگامہ دیکھنے کو ملا ۔