آئی اے ایس افسر کی مشتبہ حالت میں ہونے والی موت کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ

01:07PM Thu 19 Mar, 2015

بھٹکلیس نیوز/19 مارچ،15

بنگلورو (ایجنسی) کرناٹک اسمبلی میں اپوزیشن پارٹیوں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور جنتا دل (سیکولر) پارٹی کے ممبران اسمبلی نے آئی اے ایس افسر ڈی کے روی کی مشتبہ حالت میں ہونے والی موت کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے کرانے کے لئے اپنا دھرنا آج بھی جاری رکھا۔مسٹر روی کی لاش پیر کو ان کی سرکاری رہائش گاہ میں لٹکی ہوئی پائی گئی تھی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ریاست کی کانگریس حکومت اس مطالبے کو مسترد کر چکی ہے اور اسے خود کشی کا معاملہ بتایا ہے ۔وزیر اعلی کے سدارمیا نے ریاستی پولیس کی طرف سے اس معاملے کی تفتیشی جرائم بیورو (سی آئی ڈی) جانچ کا اعلان کیا ہے اور اپوزیشن کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ حکومت کو مرکزی جانچ ایجنسی پر یقین نہیں ہے اور یہ معاملہ سی بی آئی جانچ کے لئے موزوں نہیں ہے ۔مسٹر سدارمیا نے کہا کہ ریاستی پولیس اس معاملے میں انصاف کرے گی اور آئی اے ایس افسر کی موت کی سچائی سامنے لا کر رھے گي ۔انھونے کہا‘مسٹر روی کی موت بدقسمتی کی بات ہے ۔ اپوزیشن کو اپنا دھرنا واپس لینا چاہئے اور بجٹ اجلاس کو بہتر طریقے سے چلنے دینے میں تعاون دینا چاہئے ’۔اپوزیشن نے کل اسمبلی میں ایک التوا کی تجویز کی مانگ کی تھی جسے حکمراں پارٹی نے مسترد کر دیا تھاحالانکہ اس معاملے پر ایک دن بحث ہوئی تھی اور حکومت نے سی آئی ڈی جانچ کا اعلان کیا تھا۔ اس سے غیر مطمئن دو نوں اپوزیشن پارٹیوں نے اپنا دھرنا جاری رکھا۔

ع،ح،خ