سرکار کی سختی وبھاجپائیوں کی گرفتاری سے بھیم آرمی کے تیور بھی ڈھیلے !

05:10PM Tue 6 Jun, 2017

سہارنپور ۔ر (بھٹکلی نیوز) جہاں نسلی فساد کو ہوا دینے میں بھیم آرمی کے قائدین کی بڑے پیمانہ پر پکڑ کیجارہی ہے وہیں شبیر پور کے نسلی فساد سے قبل دودھلی کے ہندو مسلم فساد اور ایس ایس پی لوکمار کے بنگلہ پر توڑ پھوڑ، گالی گلوچ اور مار پیٹ کرنے کے الزام میں آخر بھاجپاکے ایم پی کے بھائی راہل شرما، شہر صدر بھاجپا، سابق ممبر اسمبلی ، ایک ایڈوکیٹ ایک پردھان اور چار دیگر با اثر افراد کے غیر ضمانتی وارنٹ سے یہ ثابت ہوچکاہے کہ ایک ماہ کی مدت میں یہاں ہونے والے چاروں فسادات کی جڑ مقامی ایم پی کی ٹیم ہی ہے اگر پولیس گرفتاری اسی وقت کر لیتی تو آج معاملہ یہاں تک پہنچتاہی نہی درجن بھر افسران کے تبادلے عوام پر سختی بے قصوروں کی گرفتاری ،بھاجپائیوں کی بد زبانی اور دہشت گردی نے سہارنپور کو دہلاکر رکھ دیاہے مگر اب بھاجپائیوں کی پکڑ دھکڑ سے عوام اور انتظامیہ نے راحت کی سانس لی ہے بھیم آرمی کے تیور بھی ڈھیلے ہو چلے ہیں کمشنری اب چین و سکون کی جانب کامزن ہے ؟ یاد رہیکہ بھاجپاکے ممبر لوک سبھا اور ممبران اسمبلی نے گزشتہ ہفتہ گاؤں دودھلی میں بنا اجازت بابا صاحب کی شوبھا یاترا نکال کر ماحول کو زہر آلودہ کرنیکا شرمناک کھیل کھیلا اور ضلع کا پر امن ماحول ہندومسلم فساد کی خبروں سے شرمندہ ہوکر رہگیا مگر بھاجپائی اس پر بھی چپ نہی ہوئے اور پھر سے کچھزوز بعد ہی تھانہ بڑگاؤں کے دیہات شبیر پورہ میں جبریہ طور سے اور بنا اجازت مہارا پرتاپ کی شوبھا یاترا نکال کر دلت فرقہ کو اپنی رنجش کا نشانہ بنادیا اس واردات سے ٹھاکروں اور دلتوں میں بھاری ٹکراؤ پتھراؤ، آگ زنی اور فائرنگ تک جا پہنچا نتیجہ کے طور پر دلتوں پر ہی ظلم ڈھائے گئے صاف ہیکہ دس دن قبل مسلم م فرقہ پر اسکے بعد دلت فرقہ بھی پر اسی انداز میں حملہ کیا جانا اس بات کو سچ ثابت کرنیکے لئے بھاجپاکے ایم پی لکھن پال شرما کے بھائی راہل شرماکے وارنٹ نکلناہی کافی بڑا ثبوت ہے کہ بھاجپائی، ہندو یوا واہنی اور بجرنگ دل کے لوگ مذہبی،نسلی اور بدلہ کی سیاست کو طاقت پہنچا رہے ہیں مگر اعلیٰ قیادت تماشا دیکھ رہی ہے! مندرجہ بالا واردات کو دھیان میں رکھتے ہوئے آج پچھڑا سماج مہا سبھا کے قومی صدر احسان الحق ملک نے پریس سے کہا کہ جس طرح سے بھاجپائی، ہندو یوا واہنی، آر ایس ایس اور اسکی ہم فکر جماعتیں ملک میں تشدد، فرقہ وارانہ فسادات، ظلم ، مذہبی نفرت ،ناانصافی ،ذات پات اوراونچ نیچ کی کھائی پیدا کرنیکی ناکام کوششیں کر رہی ہیں انہی حرکات کی وجہ سے آج ہمارے پر امن ملک میں آپسی مذہبی انتشار اورافراتفری پھیل رہی ہے اگر ان واراداتوں پر پر فوری توجہ نہیں دی گئی تو یہ آگے چل کر اس طرح کی وارادتیں ناسور کی شکل اختیار کر سکتی ہیں اس سے یہ سماج اپنے حقوق اور ناانصافی کے لیئے کوشش کر سکتا ہیمرکز کی بھاجپا حکومت آرایس ایس کے ایجنڈے کو لاگو کرے گی تو ملک کا پچھڑا ،دلت اور اقلیتی اسے برداشت نہیں کرے گا وہ سڑکوں پر اتر کر اپنے سبھی آئینی حقوق کولیکر ہی رہے گاوہ وقت آگیاہے جب دس فیصد لوگ ملک کے نوے فیصد لوگ کو غلام ہی نہیں بنایا بلکہ انہیں ان کے حقوق سے بھی محروم کر دیا ہے اور آج بھی گاؤں دیہات میں مسلم افراد، دلت فرقہ کے علاوہ پچھڑوں ا ور غریبوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بناکر سبق سکھانے کی نظر سے انہی کو ستایا جا رہا ہے یہ بات بھی اہم ہے کہ سڑک دودھلی اور شبیر پورہ میں جو کچھ بھی ہوا اسکیلئے بھاجپا ایم پی اورممبران اسمبلی ہی ذمہ دارہیں مگر پولیس اور انتظامیہ انکے خلاف ایکشن لیناہی نہی چاہاہے جس وجہ سے عوام میں غصہ بڑھتا گیا؟پچھڑا سماج مہا سبھا کے قومی صدر احسان الحق ملک نے کہا مرکزا و رریاستی حکومت کو چاہئے کہ دلت، مسلم اور کمزور فرقہ پر ہونے والے تشدد کو روکے اور انکے ساتھ انصاف کرتے ہوئے انکے جائزمسائل کوحل کریں ورنہ ظلم اور جبر کے خلاف شروع ہونے والے پر امن عوامی آندولن کو روکا نہیں جا سکیگا۔ مسٹر ملک اورکشواہا نے یہ بھی کہا کہ آر ایس ایس کا قیام ہی نفرت پھیلانے کے لئے کیا گیا تھااسی آر ایس ایس نے ملک کو تقسیم کر وایا ،گاندھی جی کو قتل کروایا ،اور آج بھی اقلیتوں ،دلتوں ،پچھڑوں کو مذہب کے نام پر بانٹ کر اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں ۔کشواہا نے یہ بھی کہا کہ یہ ایسے بے رحم لوگ ہیں جو لاشوں پر چلتے چلے جائیں گے،علاقہ کے علاقہ جلاتے چلے جائیں گے ،مڑ کر دیکھیں گے بھی نہیں ،کیونکہ انہیں اقتدار چاہئے ،اقتدار کے لئے ملک میں کچھ بھی کرا سکتے ہیں ، ملک اورکشواہا نے یہ بھی کہا کہ آج پورے ملک میں ان کادبدبہ ہے ،یہ کچھ بھی کریں انہیں پوری چھوٹ ہے جہاں توگڑیا کے بیان پر کوئی کاروائی نہیں ہو گی وہیں اویسی پر درجنوں مقدمات لاگو کئے جاتے ہیں ۔اس طرح ناانصافی اقلیتوں کے ساتھ کی جاتی ہے پچھڑا سماج مہا سبھا کے قومی صدر احسان الحق ملک نے کہا کہ آج ہماری جانب سے اسی گندی اور منافرت پھیلانے والی سوچ کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے ہر سطح پر کوشش کیجارہی ہیں تاکہ تشدد اور جبر کو روکا جاسکے ! اے ایچ ملک نے یہ بھی کہا عیسائیوں اور آدی واسیوں کے ساتھ بھی ناانصافی کی جا رہی ہے حد تو جب ہو جاتی ہے جب سرکاری عملہ انہیں آر ایس ایس کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے اپنی گفتگو کے آخر میں پچھڑا سماج مہا سبھا کے قومی جنرل سکریٹری کشواہانے یہ بھی کہا کہ تمام بے قصوروں کو بغیر کسی گناہ کے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے،دس پندرہ سال تک کورٹ میں شنوائی نہ ہونے کی وجہ سے جب وہ جیل سے چھوٹ کر آتے ہیں تب تک ان کی زندگی برباد ہو جاتی ہے۔ساتھ ہی ان کے اہل خانہ کو طعنہ زنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے بے قصور لوگوں کو پھنسانے والوں کو سخت سزا دی جانی چاہئے ۔کشواہا نے یہ بھی کہا کہ ایسے متاثر افراد کو انصاف دلانے کے ساتھ ہی پچھڑوں دلتوں اقلیتوں کو ان کے تناسب کے اعتبار سے سبھی سطح پر حصہ داری دلانے کے لئے مہا سبھا کمر کس چکا ہے اور مستقبل قریب ہی میں عوامی تحریک چھڑے گا۔اس تعلق ۱۵ستمبر کو صدر جمہوریہ ،وزیر اعظم کو میمورنڈم دینے کے بعد ہی عوامی تحریک کااعلان کیا جائے گا۔کشواہا نے یہ بھی بتایا کہ پچھڑے دلتوں اور اقلیتوں کے ساتھ ملک ایک نیا بھارت بنائیں انتظامیہ کی لاپرواہی کا نتیجہ پچھڑے علاقہ بنیادی سہولیات سے محروم ! سہارنپور ۔06(ر (بھٹکلی نیوز) کمشنری کی ملن ، پسماندہ اورپچھڑی مسلم بستیوں کے سدھار اور بہتری کے لئے گزشتہ عرصہ میں کتنی ہی مرتبہ یوپی اے کی مرکزی سرکار نے (دور اقتدار ) میں اپنی جانب سے کافی پیسہ یہاں بھیجاہے مگر آج تیرہ سال کے بعد بھی ان بستیوں کا حال اس سخت تپش اور آگ برساتی دھوپ میں پہلے ہی جیسا نظر آرہاہے وہ پیسہ جو مرکز بھیجتارہا وہ کہاں استعمال ہوا کس مد میں لگاہے کس طرح سے اس بڑی رقم کا استعمال ہواہے یہ مقامی نگر پنچایتوں، نگر پالیکاؤں اور مقامی نگر نگم کے کاغذات میں تو اندراج ہے مگر جس کام کے لئے یہ پیسہ آیاہے وہ کام کہاں کہاں کرایاگیا ہے یہ سچائی آج بھی موقع پر نہی ہے ہمارے سیاسی قائدین کوبھی اپنے پسماندہ اور پچھڑے عوام کے بھلے کے لئے حق مانگتے ہوئے شرم آتی ہے اسی لئے اس بنمدر بانٹ میں سبھی شامل ہیں عوام گزشتہ تیرہ سالوں کے ترقیاتی کاموں کی( مسلم بستیوں سے منسلک) سہی سہی رپورٹ مانگ رہے ہیں مگر اس مانگ پر سبھی خاموش ہیں؟ یہ ضرور ہے کہ وزراء کی چمچہ گری میں اور وزراء کی خاطر لاکھوں کی رقم خرچ کرنے میں ان نیتاؤں کو نہ جانے کیوں فخر کا احساس ہوتاہے وقت بے وقت ہونے والی ہلکی سی بارش سے شہر کے پرانے علاقوں میں گزرنا اب ناممکن بن کر رہ گیا دوسری جانب غلاظت اور گندے پانی کے جماؤ کے سبب عوام کا مسجدوں میںآناجانا بھی دشوار ہے، چلکانہ روڑ ، چکروتہ روڑ ، نور بستی ، حسین بستی ، آزاد کالونی ، حبیب گڑھ ، حاکم شاہ کالونی ، منصور کالونی ، دھوبی والا، کمیلہ کالونی ، نشاط روڑ، آلی آہنگران ، مہندی سرائے اور اسلامیہ ڈگری کالج سرائے حسام الدین،سرائے فیض علی،پل بنجاران، داؤد سرائے اور اسکے آس پاس کا علاقہ گندگی ،نالیوں اور نالوں میں بھرے ہوئے چوڑے سے گھراہواہے نتیجہ کے طور پر یہ تمام علاقہ بدبو اور مچھروں کی بہتات ہے گزشتہ تین سال سے ان علاقوں کے نالے اور نالیاں چوڑے سے بھرے ہوئے پڑے ہیں ضلع حکام بالخصوص نگر نگم کے صفائی ملازمین ہر روز آتے ہیں اور نمائشی انداز میں معمولی طورپر ہلکی سی صفائی کر کے چلے جاتے ہیں جبکہ گندگی جس کی تس ہی قائم رہتی ہے مندرجہ بالاپسماندہ علاقوں میں لاکھوں لوگ آباد ہیں نالوں اور نالیوں کا پانی آدھے سے زیادہ ان علاقوں کے گھروں میں گھسا رہتا ہے مچھروں کی پیداوار اس قدر ہے کہ ان جگہوں پر عام آدمی کا رہنا ناممکن ہے مگر غریبی کے ستائے مسلم لوگ ان علاقوں کو چھوڑکر جائے تو کہاں جائے حکام کو ان غریبوں کی ذرا بھی پرواہ نہیں ہے سیاست داں ووٹ کے لئے ان بستیوں میں آتے ہیں اور جھوٹے وادے کر کے لوٹ جاتے ہیں گزشتہ تین ماہ قبل بھی سماج وادی پارٹی، بی ایس پی اور کانگریس کے لیڈران نے ان علاقوں میں آکر مسلمانوں کو سبز باغ دکھاگئے اور ووٹ لیکر چلتے بنے مگر اس کے بعد پارٹی کے ان لیڈران نے کبھی ان علاقوں میں دوبارہ سے آنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی آج ان علاقوں میں پینے کا پانی بھی گندے جراسیم سے بھرا ہوا ہے ، غلاظت اور گندگی کے باعث ان علاقوں میں کھلی ہوا میں سانس لینا بھی دوبھر ہے سخت گرمی بجلی کنیکشن دستیاب نہی، سرکاری علاج ودواؤں کی قلت، ٹوٹی سڑکیں اندھیری گلیاں، پرائمری تعلیمی اداروں کی کمی جگہ جگہ گندے پانی کا بھراؤ ،غلاظت اور چوڑے کے انبار لگے رہتے ہیں عام لوگوں کا بالخصوص بزرگوں، خواتین اور بچوں کا گزر ان بستیوں میں مشکل سے مشکل تر ہو گیا ہے ہر وقت سڑکیں گندے پانی اور کیچڑ سے لبا لب رہتی ہیں جتنے بھی مسائب ان علاقوں کے پسماندہ مسلمانوں کو برداشت کرنے پڑ رہے ہیں وہ کسی جہنم کی تکلیف سے کم نہیں سچ مانو تو ان علاقوں کے مسلمانوں کا روز مرہ کا جینا جہنم سا ہو کر رہ گیا ہے مگر لاچاری اور مجبوری کے سبب لاکھوں لوگ گندگی اور مچھروں کی یلگار کے بیچ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ابھی بھی علاج کے نام پر اس علاقہ کے عوام کے لئے سرکاری سطح پر فرسٹ ایڈ اسینٹر کابھی معقول کوئی بندو بست نہیں ہے!رفاع حاجت کیلئے بھی یہاں بیت الخلاؤں کے انتظامات اور گندے پانی کی نکاسی کے ذرائع نہی ہیں۔