اسلام کے خلاف بدزبانی کرنے والے لیڈرپرسخت کارروائی کی جائے۔ ممبرپارلیمنٹ مولانااسرارالحق قاسمی کامطالبہ

11:47AM Thu 3 Mar, 2016

بھٹکلیس نیوز ؍03 مارچ، 16 نئی دہلی ،(راست)کرناٹک کے شمالی کینراحلقے سے بی جے پی کے ممبرپارلیمنٹ اننت کمارہیگڈے کے اسلام کے تعلق سے توہین آمیزبیان پر سخت اعتراض کرتے ہوئے معروف عالم دین اور ممبرپارلیمنٹ مولانااسرارالحق قاسمی نے کہاہے کہ بی جے پی لیڈرکویا تواسلام کی تعلیمات سے واقفیت نہیں ہے یاوہ معاشرے میں نفرت اور دوری کوبڑھاوادینے کے لیے بے ہودہ باتیں کررہے ہیں۔واضح ہوکہ مذکورہ ممبرپارلیمنٹ اپنے جارحانہ بیانات اور تقریروں کے حوالے سے مشہورہیں اورانھوں نے ابھی حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے دنیامیں دہشت گردی کے پھیلنے کاذمے داراسلام کوقراراردیااورکہاکہ جب تک اسلام ہے،اس وقت تک دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔مولاناقاسمی نے کہاکہ جب سے مرکزمیں بی جے پی حکومت آئی ہے،اس پارٹی کے وزراسمیت سارے بڑے چھوٹے لیڈران بدزبانی اورملک میں منافرت پھیلانے میں سرگرم ہیں،انھوں نے آگرہ میں وی ایچ پی لیڈرکے قتل کے بعدایک پروگرام میں مرکزی وزیررام شنکرکٹھیریااورمقامی لیڈران کے ذریعے مسلمانوں کوکھلاچیلنج دینے پربھی سخت تشویش اورناراضگی جتائی۔مولاناقاسمی نے اس صورتِ حال کوملک کی داخلی سلامتی کے لیے خطرناک قراردیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ ایسے عناصرپرلگام ڈالے،ورنہ اس کا نتیجہ ملک کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔مولاناقاسمی نے کہاکہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور ہمارے ملک کا باوقاردستورسارے شہریوں کویکساں حقوق دیتے ہوئے ایک دوسرے کے مذہب اور مذہبی جذبات کے احترام کی تلقین کرتاہے،ایسے میں کسی بھی شخص کاایک خاص مذہب اوراس کے ماننے والوں کونشانہ بناناہرگزبرداشت نہیں کیاجاسکتا۔مولانااسرارالحق نے دہشت گردی اور اسلام کے حوالے سے کہاکہ اسلام دنیاکاوہ واحدمذہب ہے،جس نے ایک انسان کے قتل کوپوری دنیااور پوری انسانیت کاقتل قراردیتے ہوئے لوگوں کواس سے سختی سے روکاہے اوراسلام کے تومعنیٰ ہی سلامتی اور امن و آشتی ہیں،ایسے میں اسلام کودہشت گردی سے جوڑنااورعوام کوگمراہ کرنے کی مہم چلانانہایت ہی گھناؤنی اور ذلیل حرکت ہے۔واضح رہے کہ مذکورہ واقعے کے بعد بھٹکل کی متعددسماجی تنظیموں نے ضلع انتظامیہ سے رابطہ کرکے ایف آئی آردرج کروادی ہے اورانتظامیہ نے مذکورہ شخص کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔